آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 52
ہو سکتے کیونکہ وہاں تو لکھا ہے کہ اسے وہ حکومت ابد تک ملے گی۔لیکن مسیح کی حکومت تو محمد رسل الله سایما ایلم کے زمانہ میں ختم ہوگئی اور مسلمانوں کا قبضہ اس ملک پر ہو گیا۔چنانچہ تیرہ سو سال سے مسلمان اس ملک پر قابض ہیں۔کیا تین سوسال کی حکومت ابد کہلائے گی یا تیرہ سو سال والی حکومت ابد کہلائے گی؟ یہ صاف بات ہے کہ تیرہ سوسال والی حکومت ہی ابد کہلائے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت انگریزی حکومت جو عیسائی حکومت ہے اس ملک پر قابض ہے۔لیکن خدا کی قدرت ہے کہ انگریزوں کو اس ملک پر بادشاہ ہونے کے لحاظ سے حکومت حاصل نہیں بلکہ منڈ یٹری پاور Mandatory Power) ہونے کے لحاظ سے تصرف حاصل ہے اور عارضی طور پر تھوڑی مدت کے لئے کسی کا درمیان میں آجانا یہ پیشگوئی کے خلاف ہوتا بھی نہیں۔محمد رسول اللہ صلی سایتم کی بادشاہت کیسی عدالت اور انصاف والی تھی۔اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانہ میں عارضی طور پر اسلامی لشکر رومی لشکر کی کثرت اور اس کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹا اور مسلمانوں نے بیت المقدس اور اس کے اردگرد کے علاقوں والوں کو بلا کر ان کے ٹیکس یہ کہتے ہوئے واپس کئے کہ ٹیکس امن اور حفاظت کی غرض سے ہوتے ہیں۔چونکہ ہم لوگ اس ملک کو اب چھوڑ رہے ہیں اور ہم آپ کو نہ امن دے سکتے ہیں نہ آپ کی حفاظت کر سکتے ہیں اس لئے آپ کا روپیہ آپ کو واپس کیا جاتا ہے ہمارا اس روپیہ پر کوئی حق نہیں۔تو تاریخیں بتاتی ہیں کہ اس بات کو سن کر یروشلم کے باشندے ایسے متاثر ہوئے کہ باوجود اس کے کہ ان کے ہم مذہبوں کی فوجیں آگے بڑھ رہی تھیں اور ان کے مذہب کے مخالف لوگ ان کے ملک کو خالی کر رہے تھے۔یروشلم کے باشندے روتے ہوئے شہر سے باہر اسلامی لشکر کو چھوڑنے کے لئے آئے اور ساتھ دعائیں کرتے جاتے تھے کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو جلد واپس لائے کہ ہم نے آپ 52