مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 935
935 ۳۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔“ تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲ ) ۴۔اس نکتہ کو یا د رکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں یعنی با عتبار نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے اور میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کا ملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“ ا۔نبوت کی تعریف:۔(نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۸۱ حاشیه ) ۲۔خدا کی اصطلاح:۔و نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا منبع نہ ہو۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۰۶) ”خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اُس نے نبوت رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبر میں دی گئی ہیں۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۴۱) (ب)۔اے نادانو۔۔۔آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں میں اُس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں۔تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۳) ۳۔نبیوں کی اصطلاح:۔جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔“ الوصیت روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱)