مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 917
917 چار سوال اہل پیغام سے اہل پیغام کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی اور رسول نہ تھے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود کی کتب میں جو اپنی نسبت نبوت غیر تشریعی کا دعوی پایا جاتا ہے۔اس سے مراد صرف محدثیت اور مجددیت ہے نہ کہ نبوت۔کیونکہ آنحضرت صلعم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے۔اس پر ہماری طرف سے چار لا منحل سوالات ہیں جو مختلف مواقع پر کئے جاتے رہے ہیں۔پہلا سوال :۔یہ کہ حضرت مسیح موعود د فرماتے ہیں :۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا۔تجلیات الهی روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۱۲) اس حوالہ سے صاف طور پر ثابت ہوا کہ نبوت تشریعی اور نبوت غیر تشریعی“ آپس میں نقیضین ہیں جن کا اجتماع کسی صورت میں ممکن نہیں۔گویا دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ ”نبوت تشریعی اور نبوت غیر تشریعی‘ کا کسی ایک شخص میں ایک ہی وقت میں جمع ہونا غیر ممکن ہے۔پس جو شخص تشریعی نبی ہوگا اس کے لئے ممکن نہیں کہ اس کے ساتھ ہی وہ غیر تشریعی نبی بھی ہو۔پس اہل پیغام کے عقیدہ کے مطابق ”غیر تشریعی نبی سے مراد مجددا اور محدث لی جائے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ تشریعی نبی مجدد یا محدث نہیں ہو سکتا کیونکہ تشریعی نبوت نقیض ہے غیر تشریعی نبوت کی اور غیر تشریعی نبوت سے مراد مجددیت اور محدثیت ہے بقول اہل پیغام۔پس تشریعی نبوت نقیض ہوئی مجددیت اور محدثیت کی۔دونوں چیزوں کا ایک وقت میں اجتماع محال اور غیر ممکن ٹھہرا۔نتیجہ صاف ہے کہ تشریعی نبی کا مجددیا محدث ہونا محال ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے صاف طور پر ثابت ہے کہ ہر تشریعی نبی محدث ہوتا ہے اور مجد د بھی اور اس طرح سے مجددیت اور محدثیت ہمیشہ تشریعی نبی کے ساتھ جمع ہوتی ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (جو تشریعی نبی تھے ) کی نسبت تحریر فرمایا ہے:۔پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجد داعظم تھے۔“ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۰۶) پس اگر اہل پیغام کے خیال کے مطابق غیر تشریعی نبوت سے مراد مجددیت اور محدثیت لی