مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 882
882 ۳۴۔حضرت مرزا صاحب کے ماننے والوں کا کیا نام رکھا گیا احراری معترض نے یہ مغالطہ بھی دیا ہے کہ خود حضرت مرزا صاحب نے اپنی جماعت کا نام مسلمان نہیں رکھا بلکہ احمدی رکھا۔اور مردم شماری کے کاغذوں میں بھی جماعت کو ” احمدی“ کا نام لکھانے کی ہدایت کی۔حالانکہ یہ محض تلبیس اور جھوٹ ہے کیونکہ حضرت مرزا صاحب نے ہرگز اپنی جماعت کا نام محض ”جماعت احمدیہ یا اپنے ماننے والوں کا نام محض ”احمدی نہیں رکھا۔اور نہ اپنی جماعت کو محض احمدی‘ نام مردم شماری کے کاغذوں میں لکھانے کی ہدایت فرمائی جس اشتہار میں حضرت مرزا صاحب نے اپنی جماعت کا نام تحریر فرمایا ہے وہ ۴ نومبر ۱۹۰۰ء کو شائع ہوا اور تبلیغ رسالت جلد نمبر ۹ صفحہ نمبر ۸ تا ۹۱ پر موجود ہے اس میں حضور تحریر فرماتے ہیں:۔یادر ہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات جلد نمبر صفحہ ۳۵۷) اور وہ نام جو اس سلسلہ کے لیے موزوں ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لیے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمد یہ ہے۔اور جائز ہے کہ اس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکار ہیں۔یہی نام ہے جس کے لئے ہم ادب سے اپنی معزز گورنمنٹ میں درخواست کرتے ہیں کہ اسی نام سے اپنے کاغذات اور مخاطبات میں اس فرقہ کو موسوم کرے یعنی مسلمان فرقہ احمدیہ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۶۴، ۳۶۵) اس فرقہ کا نام ”مسلمان فرقہ احمدیہ اس لیے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم “ دیکھواشتہارم نومبر ۱۹۰۰ء تبلیغ رسالت جلد ۹ صفحه ۹۱٬۹۰) پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے خود اپنی جماعت کے لیے لفظ ” مسلمان“ کو ترک کر دیا ہے وہ جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے۔جماعت احمد یہ مسلمان فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے جس طرح دوسرے تمام فرقوں کے علیحدہ علیحدہ امتیازی نام ہیں مثلاً’اہلسنت والجماعت“ حنفی یا اہلحدیث یا شیعہ وغیرہ اسی طرح اس فرقہ کا بھی احمدی‘ نام ہے۔لیکن جس طرح باقی سب فرقے اسلام کے فرقے ہی ہیں بلکہ اصل اور حقیقی اسلام کے حامل ہونے کے مدعی ہیں اسی طرح اس فرقہ کا بھی دعوی ہے کہ اصل اور حقیقی اسلام اسی فرقہ میں ہے۔