مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 800
800 ۵۔امام مہدی کی علامات میں ہے:۔يَقُولُ يَا مَعْشَرَ الْخَلَائِقِ۔۔۔۔أَلَا وَمَنْ أَرَادَ اَنْ يَنظُرَ إِلَى مُحَمَّدٍ۔۔۔۔فَهَا أَنَا ذَا مُحَمَّدٌ ( بحارالانوار جلد ۵۳ باب ما يكون عند ظهوره عليه السلام از علامہ باقر مجلسی) یعنی امام مہدی کہے گا اے لوگو ! تم میں سے جو کوئی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا چاہتا ہے وہ سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوں۔گویا منم محمد واحم کہ مجتبی باشد کہنا مہدویت کی علامت ہے نہ کہ محل اعتراض ! (مکمل حوالہ دیکھو پاکٹ بک ہذا صفحه ۸۰۳) ۶۔حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے:۔کسی نے پوچھا عرش کیا ہے؟ فرمایا! میں ہوں“ پو چھا کرسی کیا ہے؟ فرمایا میں ہوں پوچھا لوح کیا ہے؟ فرمایا میں کہا خدائے عزوجل کے برگزیدہ بندے ہیں۔ابراہیم ، موسی ، عیسی ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ”سب میں ہوں۔“ (ظہیر الاصفیاء ترجمہ اردو تذکرة الاولیاء چودہواں باب صفحه ۵۵،۱۵۴ و تذکرۃ الاولیاء اردو شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز با رسوم صفحه ۱۲۸۔مزید تفصیل ملاحظہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دعوی فضیلت کے الزام کے جواب میں صفحہ ۷۹۱ ) ۶۲۔حضرت فاطمہ کی ران پر سر رکھنا مرزا صاحب نے یہ لکھ کر کہ میں نے خواب میں حضرت فاطمہ کی ران پر سر رکھا۔حضرت فاطمہ کی توہین کی ہے۔جواب نمبرا۔(تمہاری دھوکہ دہی اور تحریف کو طشت از بام کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود کی اصل عبارت نقل کی جاتی ہے: ”کشف دیکھا تھا کہ حضرات پنج تن سید الکونین حسنین فاطمة الزہراء اور علی رضی اللہ عنہ عین بیداری میں آئے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کمال محبت اور مادرانہ عطوفت کے رنگ میں اس خاکسار کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔غرض میرے وجود میں ایک حصہ اسرائیلی ہے اور ایک حصہ فاطمی۔(تحفہ گولڑو بی روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۱۱۸) گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ ثابت فرما رہے ہیں کہ حضور حضرت فاطمہ کی اولا د سے ہیں اور عبارت میں مادرانہ عطوفت“ کا لفظ بھی موجود ہے۔ب۔دوسری جگہ پر تحریر فرماتے ہیں:۔پھر ایک کشف میں۔۔۔میرا سر بیٹوں کی طرح