مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 721 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 721

721 میں جس قدر مسلمانوں کی تعداد تھی صرف ایک صدی سے بھی کم زمانے میں اس سے دس گنا بڑھ گئی۔چنانچہ سرسید احمد خاں صاحب علی گڑھی ، مولانا شبلی نعمانی، نواب محسن الملک بہادر ، نواب صدیق حسن خاں صاحب اور دوسری عظیم الشان شخصیات نے دور اول میں اور قائد اعظم محمد علی جناح نے دور آخر میں ہندو کی غلامی پر انگریز کے ساتھ تعاون کو ترجیح دی۔اور مندرجہ بالا قرآنی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے انگریزوں کی طرف دست تعاون بڑھایا۔سرسید مرحوم نے انگریزی حکومت کو مسلمانوں کی وفاداری کا یقین دلانے کے لئے متعدد کتب و رسائل تصنیف کئے۔مسلمانوں کی مغربی علوم میں ترقی کے لئے شبانہ روز کوششیں کیں جن کا نمونہ علیگڑھ یونیورسٹی کی صورت میں موجود ہے۔چنانچہ احمدیت کے ذلیل ترین معاند اخبار ”زمیندار“ لاہور کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ان دنوں سیاست کا تقاضا یہی تھا کہ انگریز کی حمایت کی جاتی۔“ ( زمیندار ۲۷/۱۱/۵۲ صفحه ۳ کالم نمبر ۵) مہدی سوڈانی پھر یہ بات بھی مد نظر رکھنی ضروری ہے کہ مہدی سوڈانی کی تحریک ۱۸۷۹ء اور اس کے برطانوی حکومت کے ساتھ تصادم کے باعث انگریزی قوم کے دل و دماغ پر یہ چیز گہرے طور پر نقش ہو چکی تھی کہ ہر مہدویت کے علمبر دار کے لئے ضروری ہے کہ وہ تیغ وستان کو ہاتھ میں لے کر غیر مسلموں کو قتل کرے۔حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ مہدویت یہی وہ دور تھا جس میں حضرت مرز صاحب نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے مامور ہو کر مسیح اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔قرآنی تعلیم کے پیش نظر آپ اگر چہ حکومت انگریزی کے ساتھ تعاون اور وفاداری کو ضروری سمجھتے تھے لیکن بدقسمتی سے دور انحطاط کے مسلمان علماء نے مہدی موعود کا یہ غلط تصور دنیا کے سامنے پیش کر رکھا تھا کہ وہ آتے ہی جنگ و پرکار کا علم بلند کر دے گا اور ہاتھ میں تلوار لے کر غیر مسلموں کو قتل کرے گا اور بزور شمشیر اسلامی حکومت قائم کر دے گا۔اس لئے اور مہدی سوڈانی کا تازہ واقعہ اس کا ایک بین ثبوت تھا۔اس لئے جب آپ نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا تو ضروری تھا کہ انگریزی حکومت آپ اور آپ کی تحریک کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتی لیکن اس پر مستزاد یہ ہوا کہ مخالف علماء نے جہاں ایک طرف اولیاء امت کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ( کہ امام مہدی پر علمائے وقت کفر کا