مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 31 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 31

31 ب:۔ویدوں میں ایسے سینکڑوں منتر ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وید ابتدائے دنیا میں نہیں بنے بلکہ ویدوں کے نزول سے پہلے دنیا میں مخلوق موجود تھی۔ج:۔ابتداء میں کامل گیان کا نازل ہونا پر ماتما کے بتانے کے خلاف ہے کیونکہ ابتداء میں جب کہ پر ما تمانے دنیا کو پیدا کیا لوگوں کی حالت بچوں کی طرح تھی اور اس کو سوامی جی نے اپنی کتاب اپدیش منجری میں تسلیم کیا ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔ان سب کو صرف کھانا اور پینا اور بھوگ کرنا ( جماع کرنا) صرف اتنا ہی یاد تھا۔آدی سرٹی میں سب انسانوں کی حالت بچوں کی تھی۔ان کو پاؤں سے چلنا اور آنکھوں سے دیکھنا اس کے بغیر ان کو کچھ گیاں نہ تھا۔اپدیش منجری ہندی صفحہ ۸۹) پس پر ما تمھا جو کہ علیم ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کو کامل گیان دے۔ایسے بچوں کو جن کو سوائے کھانے اور بھوگ کے کچھ سمجھ ہی نہیں۔اس لئے یہ ضروری ماننا پڑے گا کہ پر ماتما نے ان رشیوں کو گیان دیا لیکن کامل نہیں بلکہ ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق۔و:۔سوامی جی نے اس کے آگے لکھا ہے کہ یہ حالت ان رشیوں کی پانچ سال رہی۔پھر 66 پر ماتمانے ان کو ویدوں کا گیان دیا۔(اپدیش منجری ہندی صفحہ ۹) یعنی پیدائش کے ساتھ ہی ان کو ویدوں کا گیاں نہیں دیا گیا بلکہ پانچ سال دنیا بننے کے بعد اُن کو گیان ملا۔اعتراض:۔اس پر ہمارے آریہ بھائی کہا کرتے ہیں کہ واقعی انسانوں کو اس وقت اتنا گیان نہ تھا کہ وہ کامل گیان کو جانتے لیکن پر ماتما کا گیان تو کامل ہے۔اُس نے اپنے علم کے مطابق کامل گیان دیا۔جواب:۔یہ ٹھیک ہے کہ پر ماتما کا گیان کامل ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو وہ گیان دیتا تھا وہ کامل نہیں تھے کہ اس کو سمجھ سکتے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک کالج کا پروفیسر جو کہ ایم۔اے ہے۔ایک بچے کے آگے جبکہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اس کے پاس جائے تو وہ اس کے آگے ایم۔اے کا کورس رکھ دے اور کہے کہ یہ لڑکا واقعی اتنی لیاقت نہیں رکھتا کہ یہ ایم۔اے کا کورس سمجھ سکے لیکن میں تو ایم۔اے ہوں اور علم کے لحاظ سے کامل ہوں۔تو سب لوگ اس کو بیوقوف کہیں گے اور جواب دیں گے کہ تیرا علم واقعی کامل ہے لیکن جس بچے کو تو نے پڑھانا ہے وہ اس قابل نہیں کہ ایم۔اے کے کورس کو سمجھ سکے اس کے لئے تو وہی پہلا قاعدہ چاہیے جو یہ سمجھتا جائے۔دوسرا معیار :۔الہامی کتاب کے لئے ضروری ہے کہ اس میں ایک لفظ کی بھی کمی و بیشی نہ