مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 597
597 ۲۔ڈاکٹر عبدالحکیم مُرتد والی پیشگوئی اپنی وفات کے متعلق حضرت مسیح موعود کے الہامات جواب:۔۱۔دسمبر ۱۹۰۵ء میں اپنی وفات سے اڑھائی سال قبل حضرت اقدس نے الوصیت‘ شائع فرمائی اس کے صفحہ پر یہ الہامات درج ہیں۔قَرُبَ اَجْلُكَ الْمُقَدَّرُ“ تیری وفات کا وقت مقررہ آ گیا ہے قَلَّ مِیعَادُ رَبِّكَ (تیرے رب کی طرف سے بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔) ” بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔“ ۲ ریویو دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴۸۰ میں ہے۔رویا ( خواب ) ایک کوری ٹنڈ میں کچھ پانی مجھے دیا گیا ہے پانی صرف دو تین گھونٹ باقی اس میں رہ گیا ہے لیکن بہت مصفی اور مقطر پانی ہے۔اس کے ساتھ الہام تھا ” آب زندگی“۔اس میں دو تین گھونٹ' زندگی کا پانی اس میں باقی رہنا مذکور ہے اور اس کے پورے اڑھائی سال بعد حضور فوت ہوئے۔گویا کل میعاد تین سال بتائی گئی۔جس کو بعد میں عبد الحکیم نے چرا کر اپنے نام سے شائع کیا۔جیسا کہ آگے آئے گا۔۳ ۲۰ فروری ۱۹۰۷ لاہور سے ایک افسوسناک خبر آئی اور انتقال ذہن لاہور کی طرف ہوا ہے (ماہ مارچ ۱۹۰۷ صفہ ۲ الہامات حضرت مسیح موعود " ان کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں“۔( بدر جلد ۶ نمبر۱۱ ۴ ار مارچ ۱۹۰۷ صفحہ ۳ واحکام جلد نمبر ۷۹ ار مارچ ۱۹۰۷ء صفحه۱)۔( ریویو آف ریلیجنز جلد ۶ نمبر۳) ۲۴ دسمبر ۱۹۰۷ ء : بخرام که وقت تو نزدیک رسید ، ۲۷ کو ایک واقعہ ( ہمارے متعلق ) الله خَيْرٌ وابقى “ (یعنی اللہ ہی سب سے بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔) حضور کی وفات کی یہ افسوسناک خبر “ لاہور کی طرف سے آئی اور حضور ۲۷ رمئی ۱۹۰۸ء کو کفن میں لپیٹ کر قادیان لائے گئے۔۵۔۷ مارچ ۱۹۰۸ء ماتم کدہ “ اس کے بعد غنودگی میں دیکھا کہ ” ایک جنازہ آتا ہے۔“