مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 592
592 کہ خدا تعالیٰ کے لئے جائز ہے کہ وہ وعید ( عذاب کی پیشگوئی میں ) تخلف کرے، اگر چہ وعدہ میں تخلف ممتنع ہے اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے، جیسا کہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اگر خدا تعالیٰ کسی سے انعام (ثواب) کا وعدہ کرے تو اسے ضرور پورا کرتا ہے۔ہاں عذاب ( وعید ) کی صورت میں وہ مختار ہے، کبھی سزا دیتا ہے کبھی نہیں۔اور ائمہ صادقین کی دعاؤں میں سے ایک یہ ہے کہ ”اے وہ اللہ جب تو وعدہ کرے تو پورا کرے اور جب ڈرائے ( وعید کرے ) تو معاف فرمائے۔۔أَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ الْمَشْهُورَ فِى الْجَوَابِ أَنَّ آيَاتِ الْوَعْدِ مُطْلَقَةٌ وَ آيَاتِ الْوَعِيدِ وَإِنْ وَرَدَتْ مُطْلَقَةٌ حُذِفَ قَيْدُهَا لِيَزِيدَ التَّخْوِيْفَ (روح المعانی از علامہ ابن حجر بیشمی زیر آیت وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ - الانفال :۳۳) کہ وعدہ ہمیشہ مطلق ( اور غیر مشروط) ہوتا ہے اور ( وعید ) خواہ وہ بظاہر غیر مشروط ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس میں کوئی نہ کوئی شرط حذف کر دی گئی ہوتی ہے تا کہ خوف زیادہ بڑھ جائے۔۵۔حضرت علامہ فخر الدین رازی فرماتے ہیں۔وَعِنْدِي جَمِيعُ الْوَعِيْدَاتِ مَشْرُوطَةٌ بِعَدَمِ الْعَفْوِ فَلا يَلْزِمُ مِنْ تَرْكِهِ دَخُولُ الْكِذَبِ فِى كَلَامِ اللهِ ( تفسیر کبیر رازی زیر آیت وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ - الانفال:۳۳) کہ میرے نزدیک تمام وعیدی پیشگوئیوں میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے معاف نہ کر دیا تب پوری ہوگی۔پس اگر وعید نہ ہو تو اس سے خدا کے کلام کا جھوٹا ہونا ثابت نہیں ہوتا۔۶ تفسیر بیضاوی میں ہے بِاَنَّ وَعِيدَ الْفُسَّاقِ مَشْرُوطٌ بِعَدَمِ الْعَفْوِ (بیضاوی تفسیر آل عمران زیر آیت إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ ) کہ خدا تعالیٰ کافروں کے متعلق عذاب کی پیشگوئی کرتا ہے۔تو ہمیشہ اس میں مخفی طور پر یہ شرط ہوتی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے معاف نہ کر دیا تو عذاب آئے گا۔۔مسلم الثبوت صفحه ۲۸ - إِنَّ الْإِيعَادَ فِي كَلَامِهِ تَعَالَى مُقَيَّدٌ بِعَدَمِ الْعَفْوِ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر وعید میں عدم عفو کی شرط ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی بعض مخالفین کہا کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ آنحضرت کی پیشگوئی