مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 573
573 ہمارے تمام بیان کا انحصار صرف دو باتوں پر ہے۔ا۔پیشگوئی میں تو بہ کی شرط موجود تھی۔۲۔سلطان محمد نے تو بہ“ کی شرط سے فائدہ اٹھایا۔اگر یہ دونوں باتیں ثابت ہوں تو پھر کسی منصف مزاج اور حق پسند انسان کو اس پیشگوئی پر کوئی معمولی سے معمولی اعتراض بھی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ محمدی بیگم کا نکاح حضرت مسیح موعود سے صرف اس صورت میں ہونا تھا کہ سلطان محمد تو بہ نہ کرے اور تین سال میں مرجائے اور پھر یہ بھی ثابت کر دیا جائے کہ سلطان محمد نے فی الواقعہ تو بہ کی اور اس وجہ سے تین سال میں مرنے سے بچ گیا تو بات بالکل صاف ہوتی ہے۔سو اس بات کا ثبوت کہ اصل پیشگوئی میں تو بہ کی شرط موجود تھی ہم پچھلے صفحات میں تفصیلاً آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۶۹ واشتهار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء والهام تُوبِى تُوبِي فَإِنَّ الْبَلاءَ عَلَى عَقِیکِ درج کر کے دے آئے ہیں۔اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود کی دو اور تحریر میں درج کرتے ہیں:۔ا ما كان إلهام في هذه المقدمة إلَّا كان معه شرط ( انجام انتقم، روحانی خزائن جلدا صفحه ۲۲۲ ۲۲۳) کہ اس پیشگوئی کے متعلق مجھے ایک بھی ایسا الہام نہیں ہوا کہ جس میں شرط مذکور نہ ہو۔۲۔اور بعض نادان کہتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور وہ نہیں سمجھتے کہ یہ پیشگوئی بھی عبداللہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی کی طرح شرطی تھی اور اس میں خدا تعالیٰ کی وحی اُس کی منکوحہ کی نانی کو مخاطب کر کے یہ تھی تو بی تو بی فانّ البلاء علی عقبک یعنی اے عورت تو بہ تو بہ کر کہ تیری لڑکی کی لڑکی پر بلا آنے والی ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۶۹) سلطان محمد کی تو بہ کا ثبوت اب صرف اس امر کا ثبوت دینا ہمارے ذمہ باقی رہا کہ مرزا سلطان محمد نے توبہ کی اور فی الواقعہ پیشگوئی کی اس شرط سے فائدہ اٹھایا؟ سویا در ہے کہ اس کی تو بہ کے پانچ ثبوت ہیں:۔1 ب سے پہلا ثبوت اس امر کا کہ سلطان محمد نے تو بہ کی فطرتِ انسانی ہے۔یہ ظاہر ہے کہ جب دو انسانوں کے متعلق ایک ہی حالت میں سے گزرنے کی پیشگوئی ہواور ان دونوں میں سے ایک پر بعینہ پیشگوئی کے مطابق حالت طاری ہو جائے تو دوسرے کو بھی یقین ہو جائے گا کہ میری بھی یہی کیفیت