مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 502 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 502

502 عطار رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : (۱) ایک رات خواب میں دیکھا کہ آپ ( امام ابو حنیفہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استخوان مبارک (یعنی ہڈیاں۔خادم ) لحد میں سے جمع کر رہے ہیں۔ان میں سے بعض کو پسند کرتے تھے اور بعض کو نا پسند۔چنانچہ خواب کی ہیبت سے آپ بیدار ہوئے اور ابن سیرین کے ایک رفیق سے خواب کو بیان کیا۔انہوں نے جواب دیا کہ خواب نہایت مبارک ہے تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم اور حفظ سنت میں اس حد تک پہنچ جاؤ گے کہ صحیح کو غیر صحیح سے علیحدہ کرو گے۔“ (تذکرۃ الاولیاء اٹھارواں باب صفحه ۱۴۵ و ۱۴۶ شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز مطبوع علمی پریس لاہور ظہیر الاصفیاء ترجمہ اردو تذکرۃ الاولیاء صفحه ۱۸۳ شائع کرده حاجی چراغ دین سراج دین مطبوعہ جلال پر نٹنگ پریس لاہور ) (۲) اسی سلسلہ میں حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :۔پھر ایک رات انہوں ( حضرت امام اعظم ) نے خواب میں دیکھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہڈیاں مبارک آپ کی لحد سے جمع کرتے تھے اور ان میں سے بعض کو اختیار کرتے تھے۔ہیبت کے سبب خواب سے بیدار ہوئے۔ایک اصحاب محمد ابن سیرین نام سے تعبیر پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے علم اور جناب کی سنت کی حفاظت میں تو بہت بڑے درجہ تک پہنچے گا۔یہاں تک کہ اس میں تیرا تصرف ہو جائے گا کہ صحیح اور غلط میں فرق کرے گا۔“ ( کشف المحجوب مترجم اردو شائع کردہ شیخ الہی بخش محمد جلال الدین تاجران کتب کشمیری بازار لاہور ۱۳۲ ھ صفحه ۱۰۶) ۲۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے آگے ہی تعبیر بھی لکھی ہے اس کو کیوں حذف کرتے ہو۔” وَ لَا نَعْنِي بِهَذِهِ الْوَاقِعَةِ كَمَا يُعْنَى فِى كُتُبِ أَصْحَابِ وَحْدَةِ الْوَجُوْدِ وَ مَا نَعْنِي بِذَالِكَ مَا هُوَ مَذْهَبُ الْحُلُولِيِّينَ، بَلْ هَذِهِ الْوَاقِعَةُ تَوَافِقُ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْنِى بِذَالِكَ حَدِيثِ الْبُخَارِي فِى بِيَان مَرْتَبَةِ قُرُبِ النَّوَافِلِ لِعِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ “ ( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۶۶ نیز دیکھو تذ کرہ صفحہ ۱۹ تا ۱۹۶) کہ میں اس خواب سے وحدت الوجودیوں کی طرح یہ معنی نہیں لیتا کہ گویا میں خود خدا ہوں۔اور نہ حلولیوں کی طرح یہ کہتا ہوں کہ خدا مجھ میں حلول کر آیا بلکہ میرے خواب کا وہی مطلب ہے جو بخاری کی قرب نوافل والی حدیث کا مطلب ہے کہ جب میرا بندہ نوافل میں میرے آگے گرتا ہے تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے