مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 479 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 479

479 جیسا کہ میاں نذیر حسین دہلوی اور ابوسعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ ان لوگوں کو بار بار اس امر کی طرف دعوت کی گئی کہ اگر کچھ بھی ان کو علم قرآن میں دخل ہے یا زبان عربی میں مہارت ہے یا مجھے میرے دعوئی مسیحیت میں کا ذب سمجھتے ہیں تو ان حقائق و معارف پر از بلاغت کی نظیر پیش کریں جو میں نے کتابوں میں اس دعویٰ کے ساتھ لکھے ہیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بالاتر اور خدا تعالیٰ کے نشان ہیں مگر وہ لوگ مقابلہ سے عاجز آگئے۔نہ تو وہ ان حقائق معارف کی نظیر پیش کر سکے جن کو میں نے بعض قرآنی آیات اور سورتوں کی تفسیر لکھتے وقت اپنی کتابوں میں تحریر کیا تھا اور نہ اُن بلیغ اور فصیح کتابوں کی طرح دو سطر بھی لکھ سکے جو میں نے عربی میں تالیف کر کے شائع کی تھیں۔“ تریاق القلوب ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۳۰-۲۳۲) خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ کے ذریعہ سے تین نعمتیں اپنے کامل بندہ کو عطا فرماتا ہے۔اول۔ان کی اکثر دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اور قبولیت سے اطلاع دی جاتی ہے۔دوم اس کو خدا تعالیٰ بہت سے امور غیبیہ پر اطلاع دیتا ہے۔سوم۔اس پر قرآن شریف کے بہت سے علوم حکمیہ بذریعہ الہام کھولے جاتے ہیں۔پس جو شخص اس عاجز کا مکذب ہو کر پھر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ہنر مجھے میں پایا جاتا ہے میں اس کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ ان تینوں باتوں میں میرے ساتھ مقابلہ کرے اور فریقین میں قرآن شریف کے کسی مقام کی سات آیتیں تفسیر کے لئے بالا تفاق منظور ہو کر ان کی تفسیر دونوں فریق لکھیں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلدا اصفحه ۳۰۳ حاشیہ) ” میرے مخالف کسی سورۃ قرآنی کی بالمقابل تفسیر بنا دیں یعنی روبرو ایک جگہ بیٹھ کر بطور فال قرآن شریف کھولا جاوے۔اور پہلی سات آیتیں جو نکلیں ان کی تفسیر میں بھی عربی میں لکھوں اور میرا مخالف بھی لکھے۔پھر اگر میں حقائق معارف کے بیان کرنے میں صریح غالب نہ رہوں تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۰۴) غرض سب کو بلند آواز سے اس بات کے لئے مدعو کیا کہ مجھے علم حقائق اور معارف قرآن دیا گیا ہے۔تم لوگوں میں سے کسی کی مجال نہیں کہ میرے مقابل پر قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کر سکے۔سو اس اعلان کے بعد میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی نہ آیا۔“ (ضمیمه انجام آتھم ، روحانی خزائن جلدا اصفحه ۳۱) ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور