مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 468 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 468

468 صاحب این علوم و معارف مجدد ایں الف است كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى النَّاظِرِينَ فِي عُلُومِه وَ مَعَارِف۔۔۔۔۔و بدانند که بر سرمائی مجددی گذشته است، اما مجد دمائه دیگر است و مجددالف دیگر۔چنانچه در میان مائة والف فرق است، در مسجد دین اینها نیز همانقدر فرق است بلکہ زیادہ ازاں۔مکتوبات امام ربانی جلد ۲ صفحه ۱۵،۱۴ مکتوب چهارم ) ب۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:۔قَدْ الْبَسَنِيَ اللَّهُ خِلْعَةَ الْمُجَدَّدِيَّةِ۔(تفہیمات الہیہ بحوالہ بیج الکرامه از نواب صدیق حسن خان صاحب صفحہ ۱۳۸ مطبع شاہجہانپوری بھوپال) ج۔حضرت امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں:۔إِنِّيَ الْمُجَدِّدُ۔حج الکرامه از نواب صدیق حسن خان صاحب صفحہ ۱۳۸ مطبع شاہجہانپوری بھوپال) ۲۔اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ عام طور پر دعویٰ کرنا ضروری نہیں پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ چودھویں صدی کے مجدد کے لئے دعوی کرنا ضروری تھا۔کیونکہ بقول شما ”جھوٹا مجدد‘ (نعوذ باللہ ) میدان میں کھڑ اللکار رہا تھا۔ہائے ! یہ قوم نہیں سوچتی کہ اگر یہ کاروبار خدا کی طرف سے نہیں تھا تو کیوں عین صدی کے سر پر اس کی بنیاد ڈالی گئی اور پھر کوئی بتلا نہ سکا کہ تم جھوٹے ہو اور سچا فلاں آدمی ہے۔“ ضمیمه اربعین نمبر ۳ ۴۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۴۶۹) افسوس ان لوگوں کی حالتوں پر۔ان لوگوں نے خدا اور رسول کے فرمودہ کی کچھ بھی عزت نہ کی اور صدی پر بھی سترہ برس گزر گئے مگران کا مجد داب تک کسی غار میں پوشیدہ بیٹھا ہے۔“ اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلدی اصفحہ ۳۹۹) پس اگر اس وقت کوئی سچا مسجد “ بھی بقول شما بقید حیات موجود تھا (جس کو خدا تعالیٰ نے اُمت محمدیہ کو گمراہی سے بچانے کے لئے مبعوث کیا ہوا تھا تو اس کا فرض تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بالمقابل دعوی کر کے اُمت محمدیہ کو گمراہی سے بچاتا۔ان حالات میں اس کا خاموش رہنا تو السَّاكِتُ عَنِ الْحَقِّ شَيْطَانٌ اَخْرَسُ “ ( تذكرة الاولياء صفحہ ۳۹۰ باب ۸۶) کے مطابق اس کو گونگا شیطان“ قرار دیتا ہے۔چہ جائیکہ اس کو مدعی مفقود اور گواہ موجود“ کا مصداق بناتے ہوئے مضحکہ خیز طور پر ” مجدد قرار دیا جائے۔