مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 150
150 پس حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق یہ کہنا کہ : اخْلُقُ لَكُم (آل عمران: ۵۰) والی آیت میں لفظ خلق انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے جن معنوں میں خدا تعالیٰ کے لئے بالبداہت باطل ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام یہودیوں کے پاس اس وقت آئے جبکہ وہ دنیا داری میں پھنس کر مٹی ہو چکے تھے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے چاہا کہ وہ پرندوں کی طرح خدا کی طرف اڑنے لگ جائیں۔پھر ان میں روحانیت کی روح پھونکی جس سے وہ خدا کی طرف اڑنے لگے۔یہی معنی اس آیت کے ہیں إِلَيْهِ يَصْعَدُ الكَلِمُ الطَّيْب وَالعَمَل الصَّالِحُ يَرْفَعُه (فاطر: ۱۱) که خدا ہی کی طرف اوپر چڑھتے ہیں پاک کلمات اور نیک کام۔وہ ان کو بلند کرتا ہے۔ہاں حضرت عیسی علیہ السلام نے پطرس اور یہوداہ اسکر یوٹی جیسے پرندے بنائے جواڑے اور اڑ کر پھر زمین پر گر پڑے مگر خدا کے برگزیدہ رسول محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر ، عمر ، عثمان وعلی رضی اللہ عنہم جیسے پرندے بنائے جنہوں نے فضائے روحانیت کی لا انتہا بلندیوں کی طرف پرواز کی۔دنیوی نگاہوں نے اپنی پستی سے ان کی بلندی کو نا پنا چاہا مگر نگا ہیں نا کام واپس آئیں۔رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا بنایا ہوا ایک پرندہ ( مسیح موعود ) اس بلندی پر پہنچا کہ خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق انتَ مِنِّى بِمَنْزِلَةٍ لَا يَعْلَمُهَا الْخَلْقُ ( تذکرہ ایڈیشن سوم - الشركة الاسلامیہ صفحہ ۱۰۷، الہام ۱۸۸۳ء) کا ارشاد فرمایا۔دلیل نمبر ۸ اندھوں کو بینائی بخشا اور بہروں کو شنوائی عطا کرنا اور کوڑھی کو شفا بخشا بھی قرآن نے مسیح کے اقتداری نشانات و معجزات تسلیم کئے ہیں۔کیا آنحضرت نے بھی کوئی ایسا معجزہ دکھایا ؟ الجواب: - قرآن مجید میں ابرِئُ الْأَكْمَة وَالْاَبْرَصَ (آل عمران: ۵۰) آیا ہے جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے میں بری کرتا ہوں اندھے اور کوڑھے کو۔ابری مضارع واحد متکلم کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ میں بری کرتا ہوں۔اُشفی کا لفظ نہیں جس کا ترجمہ یہ ہو کہ میں شفا دیتا ہوں۔آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اندھوں اور کوڑھوں پر کوئی قید تھی جس سے حضرت عیسی علیہ السلام نے ان کو بری کیا۔یا در ہے کہ تورات میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اندھے، کوڑھے لنگڑے بیکل میں داخل نہ ہوں کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام نے آکر ان کی اس قید کو ہٹا دیا۔ملاحظہ ہو تو رات :۔کیونکہ وہ مرد جس میں کچھ عیب ہے نزدیک نہ آئے جیسے اندھایا لنگر یا دا کھجلی بھرا وہ 09 عیب دار ہے۔۔۔وہ اپنا کھائے مگر پردے کے اندر داخل نہ ہو۔میرے مقدس کو بے حرمت نہ کرے۔“