فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 136
136 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں جو مسیحی سوانح کی حقیقت گم ہو گئی تھی اور ایسی نابود ہوگئی تھی جیسا کہ قبر میں مٹی ایک جسم کو کھا لیتی ہے وہ حقیقت آسمان پر ایک وجود رکھتی تھی اور ایک مجسم انسان کی طرح آسمان میں موجود تھی اور ضرور تھا کہ آخری زمانہ میں وہ حقیقت پھر نازل ہو۔سو وہ حقیقت مسیحیہ ایک مجسم انسان کی طرح اب نازل ہوئی اور اس نے صلیب کو تو ڑا اور دروغگو ئی اور ناحق پرستی کی بُری خصلتیں جن کو ہمارے پاک نبی نے صلیب کی حدیث میں خنزیر سے تشبیہ دی ہے صلیب کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ایسی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں جیسا کہ ایک خنر بر تلوار سے کاٹا جاتا ہے۔اس حدیث کے یہ معنی صحیح نہیں ہیں کہ مسیح موعود کا فروں کو قتل کرے گا اور صلیبوں کو توڑے گا بلکہ صلیب توڑنے سے مراد یہ ہے کہ اس زمانہ میں آسمان اور زمین کا خدا ایک ایسی پوشیدہ حقیقت ظاہر کر دے گا کہ جس سے تمام صلیبی عمارت یکدفعہ ٹوٹ جائے گی۔اور خنزیروں کے قتل کرنے سے نہ انسان مراد ہیں نہ خنزیر بلکہ خنزیروں کی عادتیں مراد ہیں یعنی جھوٹ پر ضد کرنا اور بار بار اس کو پیش کرنا جو ایک قسم کی نجاست خوری ہے پس جس طرح مرا ہواختر برنجاست نہیں کھا سکتا اسی طرح وہ زمانہ آتا ہے بلکہ آ گیا کہ بُری خصلتیں اس قسم کی نجاست خوری سے روکی جائیں گی۔اسلام کے علماء نے اس نبوی پیشگوئی کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے اور اصل معنے صلیب توڑنے اور خنز برفیل کرنے کے یہی ہیں جو ہم نے بیان کر دیئے ہیں۔یہ بھی تو لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور آسمان سے ایسی روشن سچائیاں ظاہر ہو جائیں گی کہ حق اور باطل میں ایک روشن تمیز دکھلا دیں گی۔پس یہ خیال مت کرو کہ میں تلوار چلانے آیا ہوں نہیں بلکہ تمام تلواروں کو میان میں کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔دنیا نے بہت کچھ اندھیرے میں کشتی کی۔بہتوں نے اپنے بچے خیر خواہوں پر حربے چلائے اور اپنے دردمند دوستوں کے دلوں کوڈ کھایا اور عزیزوں کو زخمی کیا۔مگر اب اندھیرا نہیں رہے گا۔رات گذری، دن چڑھا۔اور مبارک وہ جواب محروم نہ رہے۔!! اور منجملہ ان شہادتوں کے جو بدھ مذہب کی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں وہ شہادت ہے جو کتاب بد ھ ایزم مصنفہ اولڈن برگ صفحہ ۴۱۹ میں درج ہے۔اس کتاب میں بحوالہ کتاب