فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 91

91 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں برگزیدہ بندے خاص لوگوں کو نظر آ جایا کرتے ہیں۔اور کشفی طور میں خواب کی بھی شرط نہیں بلکہ بیداری میں ہی نظر آ جاتے ہیں چنانچہ میں خود اس میں صاحب تجر بہ ہوں۔میں نے کئی دفعه کشفی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا ہے۔اور اور بعض نبیوں سے بھی میں نے عین بیداری میں ملاقات کی ہے۔اور میں نے سید و مولیٰ اپنے امام نبی مد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی دفعہ عین بیداری میں دیکھا ہے اور باتیں کی ہیں۔اور ایسی صاف بیداری سے دیکھا ہے جس کے ساتھ خواب یا غفلت کا نام ونشان نہ تھا۔اور میں نے بعض اور وفات یافتہ لوگوں سے بھی ان کی قبر پر یا اور موقعہ پر مین بیداری میں ملاقات کی ہے اور ان سے باتیں بھی کی ہیں۔میں خوب جانتا ہوں کہ اس طرح پر عین بیداری میں گذشتہ لوگوں کی ملاقات ہو جاتی ہے اور نہ صرف ملاقات بلکہ گفتگو ہوتی ہے اور مصافحہ بھی ہوتا ہے اور اس بیداری اور روزمرہ کی بیداری میں لوازم حواس میں کچھ بھی فرق نہیں ہوتا۔دیکھا جاتا ہے کہ ہم اسی عالم میں ہیں اور یہی کان ہیں اور یہی آنکھیں ہیں اور یہی زبان ہے۔مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عالم اور ہے۔دنیا اس قسم کی بیداری کو نہیں جانتی کیونکہ دنیا غفلت کی زندگی میں پڑی ہے یہ بیداری آسمان سے ملتی ہے یہ ان کو دی جاتی ہے جن کو نئے حواس ملتے ہیں۔یہ ایک صحیح بات ہے اور واقعات حقہ میں سے ہے پس اگر مسیح اسی طرح یروشلم کی بربادی کے وقت یوحنا کو نظر آیا تھا تو گو وہ بیداری میں نظر آیا اور گواس سے باتیں بھی کی ہوں اور مصافحہ کیا ہوتا ہم وہ واقعہ اس پیشگوئی سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا۔بلکہ یہ وہ امور ہیں جو ہمیشہ دنیا میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔اور اب بھی اگر ہم توجہ کریں تو خدا کے فضل سے مسیح کو یا اور کسی مقدس نبی کو عین بیداری میں دیکھ سکتے ہیں۔لیکن ایسی ملاقات سے متی باب ۱۶ آیت ۲۸ کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہو سکتی۔سواصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح جانتا تھا کہ میں صلیب سے بیچ کر دوسرے ملک میں چلا جاؤں گا اور خدا نہ مجھے ہلاک کرے گا اور نہ دنیا سے اٹھائے گا جب تک کہ میں یہودیوں کی بربادی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں اور جب تک کہ وہ بادشاہت جو برگزیدوں کے لئے آسمان میں مقرر ہوتی ہے اپنے نتائج نہ دکھلاوے میں ہرگز وفات نہیں پاؤں گا۔اس لئے مسیح نے یہ پیشگوئی کی تا اپنے شاگردوں کو اطمینان دے کہ عنقریب تم