پردہ — Page 89
پرده ہے۔اب یہ عورت یہ بھی کہتی ہے کہ میں یوکے(UK) میں بھی جارہی ہوں اور یہاں آ کر بھی اسی طرح کی ایک مسجد بناؤں گی جیسی میں نے جرمنی میں بنائی تھی۔تو یہ سب باتیں دین کو نہ سمجھنے کی وجہ ہے اور احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی وجہ ہے۔جو چیز خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہے وہ بدعت ہے جو دین میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یا جہالت کی وجہ سے اس کو دین میں شامل کیا جا رہا ہے یا اسلام کے خلاف جو قوتیں ہیں وہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت، ایک سازش کے تحت ایسی باتوں کو شامل کر رہی ہیں تا کہ اسلام میں ہی بگاڑ پیدا کیا جائے۔دوسرے دینوں میں تو بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔اسلام اگر اپنی اصلی حالت میں ہے تو یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے اس لئے یہ کہتے ہیں اس میں بھی بگاڑ پیدا کیا جائے۔قرآن کریم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے محفوظ ہے اور اس کے احکامات ہمیشہ کے لئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کی حفاظت کرتا رہے گا۔یہ بات اسلام مخالف قوتوں کو برداشت نہیں اس لئے وہ اس میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کریں گے۔جب قرآن کریم نے واضح طور پر عورت کو حیا دار لباس اور پردے کا حکم دے دیا تو پھر اس قسم کی حرکتیں جو ان حکموں کے خلاف ہیں کہ سکارف کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لمبے ڈھیلے لباس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، زینت چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ دین میں بگاڑ پیدا کرنے والی باتیں ہیں۔اور یہ بھی غلط ہے کہ مرد عورتیں اکٹھے کھڑے ہو کر نمازیں پڑھیں۔جب خدا تعالیٰ نے کہہ دیا کہ علیحدہ علیحدہ رہو تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسلام مخالف طاقتوں کے اعتراضوں سے متأثر ہو کر اس کی خلاف ورزی کریں۔دنیا دار جس کی دین کی آنکھ اندھی ہے اس کو یہ احساس ہو ہی نہیں سکتا کہ دین کے احکامات کی اہمیت کیا ہے۔ایک دفعہ یہاں ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر 89