پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 211 of 222

پردہ — Page 211

محترمہ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ بھی کے حوالہ سے ایک مثالی نمونہ تھیں۔آپ نے پاکستان سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد انگلستان سے گائنی سپیشلسٹ کا کورس کیا اور 1985ء میں فضل عمر ہسپتال میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔اُن کی وفات پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے اُن کے کے حوالہ سے فرمایا : ( آپ کے داماد ) کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی جب بارہ سال کی ہوئی تو اس کو سر ڈھانپنے اور پردے کا خیال رکھنے کی تلقین کرتیں اور حضرت اماں جان اور دیگر بزرگوں کے حوالے سے چھوٹی چھوٹی مگر اہم باتیں بچوں کو مثال یا واقعہ کی صورت میں سناتیں۔خود بھی پردے کی بہت پابند تھیں۔پس اگر والدین اور ان کے بڑے بچوں کو یہ نصیحت کرتے رہیں تو پھر لڑکیوں میں جو حجاب نہ لینے کا حجاب ہے وہ ختم ہو جاتا ہے بلکہ جرات پیدا ہوتی ہے۔۔۔۔ڈاکٹر نوری صاحب جور بوہ میں طاہر ہارٹ کے انچارج ہیں وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ نو سال سے زائد عرصہ سے محترمہ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ کے ساتھ فضل عمر ہسپتال کے زبیدہ بانی ونگ اور طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ان میں بعض ایسی صفات تھیں جو آ جکل بہت کم ڈاکٹروں میں پائی جاتی ہیں۔بہت ہی نیک، دعا گو ، اعلیٰ اخلاق کی حامل، خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والی، اپنے مریضوں کے لئے دعائیں کرنے والی، کی باریکی سے پابندی کرنے والی، قرآن کریم کا وسیع علم رکھنے والی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اُسوہ پر عمل کرنے والی خاتون تھیں۔اور انہوں نے یہاں یوکے(UK) میں بھی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد یہاں مختلف ہسپتالوں میں اپنے علم میں اضافے کے لئے بھی آتی تھیں لیکن ہمیشہ انہوں نے نقاب کا کیا ہے اور پورا برقع پہنا ہے اور کبھی کوئی کمپلیکس نہیں تھا اور پر دے کے اندر رہتے ہوئے پرده 211