قیام پاکستان کا روحانی پس منظر

by Other Authors

Page 17 of 49

قیام پاکستان کا روحانی پس منظر — Page 17

16 سیاسی حربوں کو زیرہ استعمال لانے کی ضرورت پیش آئی جو آزادی حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کے لئے لازمی اور ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔پاکستان اگر چه مسلمانان ہند کا قومی نعرہ تھا جو مختلف ارتقائی منازل و مراحل طے کرنے کے بعد معین صورت اور معین الفاظ میں ۲۳ تاریخ نشہ کو بلند ہوا اور بہت جلد کامیابی سے ہمکنار ہوا۔مگر یہ حقیقت ہے کہ اس کی جد و جہدیں انگریز اور بہندو نے منفی اور سلمان نے مثبت رنگ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔انگریزوں نے اپنے مفاد اور اپنی مستقل سیاسی پالیسی کے مطابق ہر ہندوستانی کو ذہبی آزادی دی اور مسلمانوں کو مستقل قوم تسلیم کر کے کما لیگ کو بالآخر اس کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کر لیا اس طرح خدا تعالیٰ نے خود انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی جدا گانہ ہستی کے سیاسی تحفظ کی آئینی بنیاد مہیا فرما دی۔ہندوؤں نے انگریز کا بلا شرکت غیرے واحد سیاسی جانشین بننے کی ہوس میں جہاں پورے ملک کی معیشت و تجارت پر قبضہ جما کر مسلمان قوم کے ساتھ محض اختلاف مذہب کی بناء پر شودروں اور اچھوتوں اور میچھوں کا برتاؤ روا رکھا وہاں بعض لوگوں کو اپنا آلہ کار بناکر مسلمانوں کی صفوں میں تفریق و انتشار پیدا کرنے کی سر توڑ کوشش کی۔ان کے اس ذلت آمیز سلوک سے مسلمانوں کا احساس خود داری زندہ اور اُن کی خوابیدہ قوتیں بیدار ہو گئیں اور ان کی مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف لڑانے کی پالیسی کار و جمیل یہ ہوا کہ زخم رسیدہ مسلمانوں پر جب اصل حقیقت نمایاں ہوگئی تو وہ بہت نے تقرت الہی ملاحظہ ہو جماعت احمدیہ کی بنیاد بھی ۲۳ مارچ (ستائر) کو کبھی گئی ہے