اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 359
359 حضرت ابوذرغفاری نے سنا کہ ملکہ میں ایک شخص نے دعوی نبوت کیا ہے۔انہوں نے اپنے بھائی کو تحقیقات کے لئے بھیجا لیکن اُس نے واپس جا کر کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا۔پھر وہ خود مکہ گئے۔لوگوں سے دریافت کیا کفار نے آنحضرت ﷺ تک نہ پہنچنے دیا۔یہی کہا کہ ایک شخص ہے جو اپنی سحر بیانی سے بھائی کو بھائی سے بیوی کو خاوند سے جدا کرتا چلا جاتا ہے لیکن یہ چُپ چاپ گلیوں میں چکر لگایا کرتے۔حضرت علیؓ نے انہیں ایک دن دیکھا ، دوسرے دن دیکھا، تیسرے دن دیکھا تو پوچھا کیا بات ہے آپ چکر لگایا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا شاید تم بھی مجھے ٹھیک ٹھیک نہ بتا سکو میں ایک کام کے لئے آیا ہوں حالانکہ حضرت علی تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں میں سے تھے۔حضرت علیؓ نے پوچھا اور اصرار کیا تو انہوں نے بتادیا۔وہ آنحضرت ﷺ کے پاس لے گئے۔وہ مسلمان ہو گئے۔دشمن اسلام بڑے دھڑلے سے خانہ کعبہ میں گالیاں دیا کرتے تھے۔وہ ایک دن گالیاں دے رہے تھے تو یہ وہاں گئے۔انہوں نے کہا تم گالیاں دے رہے ہو۔سُنو! أَشْهَد أَنْ لَّا إِلَهَ الله وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدَ اعْبُدُه وَرَسُولُه کفار نے پکڑ کر خوب پیٹا۔پیٹنے کے بعد پھر پوچھا۔تو چونکہ دل بہادر تھا پھر کہا اَشْهَد اَنْ لا اله اللَّهِ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدَ اعْبُدُه و رسوله - تو یہ اُن کی جرات اور بہادری تھی۔اتنے میں حضرت عباس آپہنچے۔یہ اس وقت مسلمان تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا محمد کے بڑے ہیں ؟ حضرت عباس نے جواب دیا کہ درجے میں محمد کے بڑے ہیں پیدا پہلے میں ہوا تھا۔تو جب یہ وہاں آئے تب حضرت ابوذر کو ان کے ہاتھوں چھڑایا۔تو جب دل میں ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو جو شخص بہادر ہوتا ہے وہ ہر جگہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔دین کے لئے بہادری کی ضرورت ہے اور دنیوی کاموں کے لئے بھی بہادری کی ضرورت ہے۔بُزدلی ہر صورت میں بُری ہے اور بہادری ہر لحاظ سے اچھی ہے۔اگر جاپانی ٹھس آئیں تو کیا تمہار دل یہ چاہتاہے کہ تمہارا بیٹا کھیت میں کس جائے اور وہ گھروں کولوٹ لے جائیں یا تمہارا دل یہ چاہتا ہے کہ تمہارا بیٹا دروازے میں کھڑا ہو کر بہادری سے مقابلہ کرے اور لوگ کہیں واہ ب حسی نوجوان مرتو گیا لیکن اپنی عورتوں کی جان بچائی۔یا تمہیں یہی اچھا لگتا ہے کہ اُس وقت تمہارا بیٹا گھر میں گھس جائے اور دشمن عورتوں کی چوٹیاں پکڑ کر گھسٹتے پھریں ؟ تم کو تو وہی بچہ اچھا لگے گا جو گھر کی حفاظت میں اپنی جان تک دیدے گا۔ایک کا ڈر دوسرے کو بھی ڈرا دیتا ہے۔ڈرائیسی چیز ہے جو ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔اگر تم نے اپنے نیچے کے دل میں ڈر پیدا کیا ہے تو وہ