اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 283

283 خوبصورتی اور تفاخر کا اظہار ہو اور اُس کو فخر یا بلندی مرتبہ کا معیار رکھا۔چنانچہ دہلی ، بغداد اور قرطبہ وغیرہ میں ایسی عمارتیں بکثرت تھیں اور ہیں۔بعض گانا بجانا ہی خوبی سمجھتے تھے۔بعض ممالک میں لباس اعلیٰ اور خوبصورت پسند کیا جاتا تھا۔چنانچہ بعض لوگ شلواریں ۴۰۔۵۰ گز کی پہنتے تھے ایک زمانہ ہندوستان پر بھی ایسا آیا کہ لباس تفاخرانہ پہنتے اور موجودہ شلواروں یا پاجاموں کو بُرا جانتے تھے مگر رفتہ رفتہ فیشن اور کا اور ہو گیا۔غرض ہر زمانہ میں کوئی نہ کوئی بڑائی اور نئی ایجاد کا طریقہ اکتا رہا۔چنانچہ آج کل ہمارے ملک میں بھی اعلی تعلیم پانے کا فیشن ہے اور ڈگریاں حاصل کرنیکا بھی نہیں نہیں سمجھتا کہ سکندر یا تیمور کو ملک فتح کرنے کا اتنا شوق ہو گا جتنا کہ آج کل کے ماں باپ لڑکیوں کو اعلیٰ ڈگریاں دلانے کے شائق ہیں۔یہ ایک فیشن ہو گیا ہے جو انگریزوں کی ریس اور تقلید میں ہے اور اس فیشن کی رو جنون کی حد تک پہنچ چکی ہے اور ہمارے ملک میں دوسرے ممالک کی ریس سے لڑکیوں کو ڈگریاں حاصل کرنے کی ترقی ہو رہی ہے اور یہ بھی ایک جنون ہے۔پہلے جنون تھا جہالت کا اور اب جنون ہے موجودہ طریق تعلیم کا۔حالانکہ یہ بھی ایک جہالت دوسرے ممالک والے انگریزوں کو دیوانہ علم قرار دیتے ہیں مگر وہ غلط سمجھتے ہیں۔انگریز قوم علم جہالت کے لئے نہیں سیکھتی بلکہ وہ ضرورت کے ماتحت مفید علم سیکھتی ہے اور اپنے ملک و ملت کے لئے مفید اور فیض رساں ہوتی ہے۔اگر چہ ہمارے ملک کو انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی ریس تو پیدا ہورہی ہے مگر نقصان کرنے کے لئے۔ابھی چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے سنایا کہ ایک شخص نے یورپ میں اپنے لڑکے کو اصلے تعلیم پانے کے لئے کالج میں بھیجا مگر کہا کہ خود ملا کر اور خرچ مہیا کر کے ڈگری لو ہمارے پاس تمہیں دینے کو روپے نہیں ہیں۔تو یہ ایک مفید بات ہوئی مال ضائع نہیں کیا گیا بلکہ بچے کو اپنی قوت بازو پر انحصار رکھنے کی تلقین کی گئی۔۔آج کل عورتوں میں ڈگریاں پانے کا جنون پیدا ہو رہا ہے۔وہ بجھتی ہیں کہ ہم مہذب نہیں کہلا سکتیں جب تک کہ کوئی علمی ڈگری ہمارے پاس نہ ہو۔مگر یہ اُن کی جہالت کا ثبوت ہے۔میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اپنی جماعت کی عورتوں کو جہاں تعلیم کرنے کی ترغیب دوں وہاں یہ بھی بتاؤں کہ کتنی تعلیم اور کیسی تعلیم حاصل کرنی چاہیئے۔