اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 7
7 کرنے والا ہو؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ انسان کا اپنا قصور ہے کہ دین نہیں سیکھتا ور نہ دین کی کوئی بات مشکل نہیں۔بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو حساب ، جغرافیہ، انگریزی وغیرہ علوم تو اچھی طرح پڑھی ہوئی ہیں لیکن دین سے بالکل ناواقف ہوتی ہیں حالانکہ ان علوم کے مقابلے میں دین بہت آسان ہے اور قرآن شریف میں وہی باتیں ہیں جو فطرت کے مطابق ہیں کیونکہ قرآن شریف کے بھیجنے والا خوب جانتا ہے کہ انسان کیا کیا کر سکتا ہے اور کیا کیا کرنا اُس کی طاقت میں نہیں۔پس دین میں کوئی ایسی بات نہیں جو عقل کے خلاف ہو یا مردوں ،عورتوں ، بوڑھوں ، بچوں ، جوانوں عمر رسیدوں ، غرضیکہ کسی قوم کے مردوں اور عورتوں کے لئے نا قابل عمل ہو۔پس ایک ایسی تجویز کرو کہ اول تو ہفتہ میں اور اگر یہ نہیں تو مہینہ میں ایک دفعہ عورتیں ایک جگہ جمع ہوا کریں مولوی غلام رسول صاحب ( راجیکی ) قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا دیا کریں اور حدیث کے بھی موٹے موٹے مسائل پڑھا دیا کریں اور پھر تم گھروں میں جا کر ان باتوں کو یاد کر لیا کرو۔تمہارے لئے دین سیکھنے کی یہ آسان ترکیب ہے۔خوب یا درکھو کہ جتنی کوئی دین کی خدمت کرتا ہے اتنی اس کی عزت بڑھتی ہے، دیکھو حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ وغیرہ کی ساری دنیا عزت کرتی ہے اس لئے بھی کہ آپ آنحضرت یہ کی بیویاں تھی لیکن اس لئے بھی کہ انہوں نے دین کی وہ باتیں بتائیں ہیں جو مرد نہیں بتا سکتے تھے۔پس جب تک دنیا قائم ہے اور انسان چلتا ہے پھرتا اُن کا نام زندہ رہے گا اور مسلمان اُن کا نام لیتے وقت رضی اللہ عنہا کی دعا دے گا۔حدیث کے پڑھنے والا اُن کے لئے دعا کرے گا کہ اے خدا اُن کا درجہ بلند کیجیے کیونکہ اُن کے ذریعہ مجھے یہ دین نصیب ہوا ہے۔تو دین کا سکھانا بڑا مبارک کام ہے اور مرنے کے بعد ایسا صدقہ جاریہ ہے جیسا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔دین سکھانے والے کو مرنے کے بعد لوگ دعاؤں سے یاد کرتے ہیں کہ اے خدا اُس کے ذریعہ سے ہمیں یہ نعمت نصیب ہوئی ہے اُسے اس کا بڑا اجر دیجیئے اور خدا تعالیٰ اُسے ضرور ثواب دیتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی کسی کو نیک کام سکھاتا ہے اسے بھی اس کا ثواب پہنچتا ہے۔مثلاً ایک آدمی کسی کو نماز پڑھنی سکھاتا ہے تو نماز سکھنے والا جب نماز پڑھے گا تو اُس کا ثواب اُسے بھی ملے گا اور سکھانے والے کو بھی ملے گا۔میں دیکھتا ہوں کہ عورتوں میں عورتیں بڑی عمدگی سے تبلیغ کر سکتی ہیں۔مردوں میں تو ہم مرد کرتے ہیں،