اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 96
96 چوتھا علم جو اسی لہو و لعب کی ایک شاخ ہے وہ علم القوات یعنی آواز کا علم ہے۔اس میں ایک شخص ایسے طور پر بات کر سکتا ہے کہ لوگ دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ نیچے سے ہوتا ہے مگر وہ اوپر سے بولتا ہو گا۔اسی طرح آگے پیچھے یا دا ئیں بائیں سے بولتا ہے بعض لوگ ایسے حالات کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں اس علم میں آواز کو آگے پیچھے دور نز دیک کرنے سے خاص اثر پیدا ہوتا ہے۔اس تبدیلی آواز کی ایک شاخ جانوروں کی بولیاں بولنا بھی ہے۔شکاری اس سے کام لیتے ہیں اور ان کو بہت مددولتی ہے۔جانور کھتے ہیں کہ اُن میں سے کوئی بول رہا ہے اور وہ آواز شکر ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔پانچواں علم اس فن لہو و لعب میں شعبدہ بازی ہے۔مختلف کیمیاوی ترکیبوں سے مختلف چیزیں بنا دیتے ہیں اور وہ اصل چیزوں کی سی صورت اختیار کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔جیسے سانپ یا شیر بنانا۔ایسا ہی مختلف قسم کے نقشے اور دھو کے ہوتے ہیں۔چھٹا علم ہاتھ کی صفائی۔دھوکا کہلاتا ہے۔ایسی پھرتی سے ہاتھ چلاتے ہیں کہ دھوکا لگتا ہے۔یہ کھیل عام طور پر تاش کے کھیل میں ہوتا ہے۔ساتواں علم چیستانوں کا ہے۔پہیلیوں کی طرح اس میں بتایا جاتا ہے۔یہ بھی دو قسم کا ہے ایک زبانی دوسرا عملی ملی چیستا نیں ایسی ہوتی ہیں کہ لوہے کے چھلے وغیرہ گورکھ دھندے رکھ دیتے ہیں ان کو کھولنا ہوتا ہے۔علم قدامت و محمدن (۳۲) بتیسواں علم علم القدامت ہے۔اس علم میں بتایا جاتا ہے کہ ابتدائی زمانہ میں انسانوں کی کیا حالت تھی۔مثلا نجھے رہتے تھے یا کپڑے پہنتے تھے اور کپڑے اگر پہنتے تھے تو کس قسم کے تھے۔غرض اس طرح پر پر انے حالات پر اس علم میں بحث ہوتی تھی۔اس کا ایک حصہ علم انسان ہے۔یعنی آیا دو زبان سے الفاظ بولتے تھے یا اشارات سے کام لیتے تھے۔خیالات کا اظہار کس طرح کرتے تھے۔اور اسی میں ایک حصہ علم الدراہم ہے یعنی سکے نکال کر باتیں دریافت کرتے ہیں اور ایسا ہی تیسری شاخ علم تعمیر ہے یعنی پرانی عمارتوں سے بھی پتہ لگتا ہے۔چوتھی ایک شاخ اور بھی ہے جو تعمیر کے علاوہ ہے اور اس میں دیگر آثار قدیمہ سے پتا لگایا جاتا ہے۔(۳۳) تینتیسواں علم علم التمدن ہے جو نہایت اہم علم ہے۔اس میں کئی علوم سے بحث ہوتی ہے۔