اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page iii
پیش لفظ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان اور بے پایان رحمت ہے کہ اس صادق الوعد نے اپنے وعدوں اور بشارتوں کے عین موافق جماعت احمدیہ کو خلافت جیسی نعمت عظمی عطا فرمائی۔خلافت ایک ایسا حصار ہے جو ہمیں دنیا و مافیہا کے ہر خوف وخطر سے محفوظ رکھتی ہے، خلافت ایک ایسا حصن حصین ہے کہ جو طاغوتی طاقتوں کے ہر حملے اور حربے سے ہمیں محفوظ رکھتی ہے، یہ ایک ایسی لازوال نعمت ہے جو ہمیں ہر دوسری نعمت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔خلافت میں ہماری جان ہے ، تمام برکتیں، تمام عظمتیں اور تمام رفعتیں اس کی بچی وفاداری اور اطاعت میں مضمر ہیں۔جو بھی خلافت کے عروہ تھی کو مضبوطی سے تھام لے گا وہ با برگ و بار ہوگا اور ایسی فتح پائے گا جس میں خدا کی رضا اور فضل شامل ہوگا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں :- امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اٹھاتا ہے اس کے پیچھے اٹھاتا ہے اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کرتا ہے اور اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہو جائیں تو ان کیلئے کامیابی اور فتح یقینی ہے۔(الفضل ۴ ستمبر ۱۹۳۷ء) خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت جماعت احمد یہ حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ احمدیہ جیسے عظیم رہنما کی قیادت میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہے جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے انی معک یا مسرور کی نوید عطا فرمائی ہے۔اس مسیحا نفس کے خطبات اور تقاریر نے ہم میں