اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 143
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 143 خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 2007 گزاری کا طریق ہے۔یہی اپنے بزرگوں کے نام کو زندہ رکھنے کا طریق ہے جنہوں نے احمدیت کی خاطر قربانیاں دی تھیں۔یہی آپ کا جماعت میں شامل ہو کر صحیح حق ادا کرنے کا طریق ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔جلسہ کی برکات میں سے ایک برکت یہ بھی حاصل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں گیارہ سعید فطرت مردوں عورتوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور وہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔مردوں میں بھی دستی بیعت ہوئی ، بہت ساروں نے دیکھا ہو گا، جس میں دوران سال بعض نئے شامل ہونے والوں اور جلسہ کے دوران بھی پانچ یا چھ مردوں نے بیعت کی جو احمدی ہوئے تھے۔اس وقت بھی میں نے ان مردنو مبائعین کی عجیب جذباتی کیفیت دیکھی تھی۔لیکن اس دفعہ بہت سوں کو علم نہیں، ہمیں بتا دوں کہ میں نے براہ راست جرمن عورتوں میں بھی بیعت لی ہے اور اس طرح لی تھی کہ اپنی بیوی کا ( محرم کا ہاتھ پکڑا جاسکتا ہے ) ہاتھ پکڑ کے اور باقی عورتوں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اور پھر چین (chain) بن کے 60-70 عورتوں نے اس طرح بیعت کی اور بیعت کرنے والیوں میں بعض بالکل نئی تھیں، ان کو احمدیت قبول کئے کچھ عرصہ ہوا تھا۔عموماً تو تمام عورتیں ہی اس وقت جذباتی کیفیت میں تھیں لیکن خاص طور پر ان نئی شامل ہونے والیوں کی حالت عجیب تھی، جن کی احمدیت کی زندگی صرف چند دن یا چند مہینے تھی۔اس قدرا خلاص اور جذبات کا اظہار کر رہی تھیں کہ صاف نظر آ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ کی پناہ میں آ کر ان میں ایک انقلاب آ گیا ہے۔بیعت کے الفاظ شروع ہوتے ہی انہوں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔بیعت کے بعد جو دعا ہوئی اس میں بھی ان کی تڑپ بیان سے باہر ہے اور جب میں وہاں سے اٹھ کر باہر آ گیا ہوں تو مجھے بتایا گیا کہ پھر وہ سجدہ شکر بجالانے کے لئے سجدہ میں پڑ گئیں۔یہ اس معاشرے کی وہ نوجوان تھیں جس نے خدا کو بھلا دیا ہوا ہے۔لیکن خدا کے مسیح اور آنحضرت کے عاشق صادق سے تعلق جوڑ کر انہوں نے اس دنیا اور اپنے معاشرے کوٹھکرا کر واحد و یگانہ خدا سے پیار اور صدق و وفا کا زندہ تعلق قائم کر لیا ہے۔“