اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 117
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 117 سالانه نیشنل اجتماع بر طانیہ 2007 سے نکلی ہوئی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ ضرور سنتا ہے۔یہ نہ سمجھیں کہ متقیوں کا امام صرف مرد ہے۔ہر عورت جو اپنے بچے کے لئے دعا کرتی ہے اور آئندہ نسلوں میں اس روح کو پھونکنے کی کوشش کرتی ہے کہ اللہ سے دل لگاؤ، اس کے آگے جھکو، نیکیوں پر قائم ہو وہ متقیوں کا امام بننے کی کوشش کرتی ہے اور بنتی ہے۔اپنے گھر کے نگران کی حیثیت سے وہ امام ہے۔پس مختصر آمیں نے یہ باتیں کی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے احکامات سے بھرا پڑا ہے۔اُسے پڑھیں اور سمجھیں اور اُن احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کریں تو یہی چیز ہے جو آپ کی نسلوں کو ہر شر سے بچنے کی ضمانت بنے گی۔اور یہی چیز ہے جو آپ کو اس نظام سے جوڑے رکھنے کا باعث بنے گی جس کے ساتھ تمکنت کا وعدہ ہے۔بعض دفعہ ایک عمر کو پہنچ کر بعض نوجوان بچیاں جو ہیں اُن کو یہ خیال آتا ہے کہ شاید دین ہم پر بعض پابندیاں عائد کر رہا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض ٹی وی چینلز ہیں، ویب سائٹس ہیں جو فضول اور لغو ہیں ان کو نہ دیکھیں۔لیکن غیروں کے زیر اثر یہ سوال اُٹھتے ہیں کہ انہیں دیکھنے میں کیا حرج ہے۔ہم کون سا وہ حرکتیں کر رہی ہیں جوٹی وی چینلز پر دکھائی جاتی ہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ دو چار چھ دفعہ دیکھنے کے بعد یہی حرکتیں پھر شروع بھی ہو جاتی ہیں۔بعض گھر اس لئے تباہ ہوئے کہ وہ یہی کہتے رہے کہ کیا فرق پڑتا ہے۔وہ دین سے بھی گئے ، دنیا سے بھی گئے ، اپنے بچوں سے بھی گئے۔تو یہ جو ہے کہ کیا فرق پڑتا ہے، کچھ آزادی ہونی چاہئے۔یہ بڑی نقصان دہ چیز ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ لغو سے بچو تو اس لئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی فطرت کو جانتا ہے۔اُسے پتہ ہے کہ آزادی کے نام پر کیا کچھ ہونا ہے اور ہوتا ہے۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کو یہی کہا تھا کہ میں ہر راستے سے ان بندوں کے پاس جو آدم کی یہ اولاد ہے انہیں ورغلانے آؤں گا اور سوائے عبادالرحمن کے سب کو میں قابو کرلوں گا۔اُس نے بڑا کھل کے چیلنج دیا تھا۔پس آج کل کی بعض ایجادوں کا جو غلط استعمال ہے یہ بھی شیطان کے حملوں میں سے ہی ہے۔اس لئے ہر احمدی بچی کو ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہمیشہ سوچیں کہ ہم احمدی ہیں اور اگر ہم نے احمدی رہنا ہے تو پھر ان لغویات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہمیشہ یہ سوچیں کہ اگر ہم نے احمدیت کو سچا سمجھ کر مانا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سچا سمجھتے ہیں اور آپ کو سچا سمجھتے