اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 115

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 115 سالانہ نیشنل اجتماع برطانیہ 2007 فرمایا کہ میرے راستے میں خرچ کرو۔کنجوس بن کر اپنے پیسے پر بیٹھے نہ رہو یا صرف یہی سوچ نہ ہو کہ اپنے اوپر ہی خرچ کرنا ہے۔یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ مجھے آپ سے کوئی شکوہ ہے کہ خرچ نہیں کرتیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں عورتیں اور بچیاں اس اصول کو بڑی اچھی طرح سمجھتی ہیں اور اس پر عمل بھی کرتی ہیں۔بڑی قربانی کرنے والی عورتیں ہیں۔UK کی لجنہ میں بھی انتہائی قربانی کرنے والی عورتیں ہیں۔لیکن میں یاد دہانی اس لئے کروا رہا ہوں کہ نیک باتوں کو دہراتے رہنا چاہئے۔یہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور آئندہ نسلوں میں نیکیوں کو جاری کرنے کے لئے ضروری بھی ہے۔پھر نیک لوگ جن کا رُعب ہمیشہ قائم رہتا ہے، جو رحمن خدا کے بندے ہوتے ہیں اُسکے انعامات سے فیض پانے والے ہیں اور فیض پاتے رہیں گے، اُن کے لئے یہ بھی حکم ہے کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔پس اس بات کو بھی یادرکھیں کہ جھوٹی گواہی دینا بہت بڑا گناہ ہے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اسے شرک کے برابر قرار دیا ہے۔ایک طرف تو ہم یہ دعوی کریں کہ ہم نے مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کر کے شرک سے توبہ کرلی ہے اور عبادالرحمن بن گئے ہیں۔دوسری طرف بعض معاملات میں سچائی سے کام نہ لیں۔چھوٹی چھوٹی روز مرہ کی باتوں میں غلط بیانیاں کریں۔بعض باتوں پر، بعض احکامات پر جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہیں، ان پر عمل نہیں ہورہا ہوتا۔اور کہہ دیتی ہیں کہ ہم کرتے ہیں مثلاً بعض لڑکیوں کے بارہ میں شکایت آتی ہے اور عورتوں کے بارہ میں بھی کہ بازار میں اپنے سرکو ڈھانک کر نہیں رکھتیں یا لباس ایسا پہنا ہوتا ہے جس سے بے پردگی ہورہی ہوتی ہے۔لیکن پوچھ تو یہی کہتی ہیں کہ ہم تو پردہ کرتی ہیں، ہمارے سر تو کبھی نگے نہیں ہوئے۔تو یہ جو چیزیں ہیں یہ جھوٹ میں شامل ہوتی ہیں۔بعض عہدیدار، لجنہ کی جو کام کرنے والی عہد یدار ہیں، وہ بھی دوسروں کے بارہ میں پوچھنے پر صحیح رپورٹ نہیں دیتیں۔ایک دوسری قسم کی عہدیدار بھی ہیں جو ایک دوسرے سے رنجشوں کی بناء پر غلط رپورٹ بھی کر دیتی ہیں۔کسی حالت میں بھی غلط بیانی اور جھوٹ کی ایک مومن سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ہمیشہ یہ کوشش ہونی چاہئے کہ اصلاح کا پہلو غالب رہے۔اگر کسی کو دیکھیں کہ اس نے غلط انداز میں لباس پہنا ہوا ہے جس سے جماعتی روایات پر حرف آتا ہے تو اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔پیار سے سمجھا ئیں۔نیک نیتی سے اصلاح کی کوشش ہونی چاہئے نہ کہ دوسروں کو ڈرانے کی۔لیکن جب حد سے معاملہ بڑھ رہا ہو تو پھر صحیح ر پورٹ بھی دینی چاہیئے۔