اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 6

الا ز حار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 6 جلسہ سالانہ برطانیہ 2006 مستورات سے خطاب جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والی چیز ہے۔وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْا أَجْرَهُمُ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔اور ضرور ہم اُن لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ان کے بہترین اعمال کے مطابق جزا دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے اور فرمایا کہ مرد یا عورت میں سے جو بھی نیکیاں بجالائے بشرطیکہ کہ وہ مومن ہوا سے ہم یقیناً ایک حیات طیبہ کی صورت میں زندہ کر دیں گے اور انہیں ضرور ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے جو وہ کرتے رہے۔پس دیکھیں سوچیں کون بیوقوف ہو گا جو ختم ہونے والے سودے تو لے لے اور ہمیشہ رہنے والے سودے کو چھوڑ دے بعض دفعہ دنیا میں نیکیوں پر قائم رہنے کے لئے تنگیوں اور تکلیفوں سے بھی گذرنا پڑتا ہے احکامات پر عمل کرنے کے لئے بظاہر تکالیف بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں دوسروں کے حقوق ادا کرنے کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم صبر سے یہ سب چیزیں برداشت کرلو گے تو پھر ہمیشہ کی نعمتوں کے وارث بن جاؤ گے یہ دنیاوی تکلیفیں عارضی ہیں یہ ختم ہو جائیں گی تمہارے ایمان میں مضبوطی اور عہدِ بیعت کو نبھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بہتری کے حالات پیدا کر دے گا لیکن شرط یہ ہے کہ تم بھی بے صبری نہ دکھاؤ ورنہ یاد رکھو یہ بے صبری اللہ تعالیٰ کا یا مومنوں کا تو کچھ نہیں بگاڑسکتی تمہیں ہی نقصان پہنچائے گی احکامات پر عمل نہ کر کے جو تم حاصل کرو گے وہ دائمی فائدے کی چیز نہیں ہے اس دنیا میں ہی تم دیکھو گی کہ اس کے بداثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے نیک اور صالح اعمال بجالاؤ تا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مصداق بنو کہ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔یعنی اور انہیں ضرور ان کا اجران کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے جو وہ کرتے رہے۔پس ہر احمدی عورت ہمیشہ اپنے سامنے اس بات کو رکھے کہ اُس نے اس زمانے کے لغو ولعب اور چکا چوند اور فیشن اور دنیا داری کے پیچھے نہیں چلنا بلکہ اپنی بقا کے لئے اپنے آپ کو اس دنیا کی جنتوں سے حصہ لینے کے لئے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی دائمی جنتوں کا وارث بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا ہے اللہ کے رسول کے احکامات پر عمل کرنا ہے زمانے کے جس امام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہوئی ہیں