اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 319 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 319

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 319 جلسہ سالانہ سویڈن 2005 مستورات سے خطاب شامل ہیں اور اس امام کو مانے اور آپ کے بزرگوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہی آج آپ ان ملکوں میں پرسکون زندگی گزار رہی ہیں۔ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں۔بچوں کے لئے تعلیم کے مواقع میسر ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر کئے آپ کو اللہ تعالیٰ کا مزید شکرگزار بنبنا چاہئے۔اور کسی ذہن میں یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ یہ سب کچھ میرے خاوند یا میرے باپ یا میرے بیٹے کی زور بازو اور محنت کا نتیجہ ہے۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملا ہے جو آپ کو ملا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے اس فضل کا تقاضا ہے کہ آپ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے بزرگوں کے نام روشن کرنے والی بنیں۔ان فضلوں کا تقاضا ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل کرنے والی بنیں اور نہ صرف خود اس تعلیم پر عمل کریں بلکہ اپنی اولا دوں کی بھی اس فکر کے ساتھ نگرانی کریں اور تربیت کریں کہ کہیں وہ مغرب کے آزاد ماحول کی وجہ سے دین سے دور نہ ہٹ جائیں۔خاص طور پر لڑکوں کی بڑی نگرانی کرنی پڑتی ہے۔ان ممالک کی عورتوں نے بھی آپ کے عملی نمونے دیکھنے ہیں آپ یہ بھی یاد رکھیں کہ ان ملکوں میں نئے شامل ہونے والے احمدی جو یہاں کے مقامی ہیں اور بعض دوسری قوموں کے بھی ہیں اور ان میں سے بھی اکثریت عورتوں کی ہے انہوں نے آپ کے نمونے دیکھنے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ جن عورتوں نے یعنی یہاں کی مقامی عورتوں نے مردوں کے ساتھ شادیاں کی ہیں وہ ان مردوں کے نمونے بھی دیکھیں گی اور اتنا ہی دین سیکھیں گی اور سمجھیں گی جتنا ان کے پاکستانی خاوند یا پرانے احمدی خاوند دین پر عمل کرتے ہیں۔اس لئے مردوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان کی تربیت کریں۔مردوں کو میں اس سے باہر نہیں کر رہا۔لیکن عورتوں کے ماحول میں جب یہ نئی عورتیں آئیں گی یعنی نئی احمدی ہونے والی عورتیں آئیں گی جنہوں نے بیعت کی ہے اور احمدیت میں شامل ہوئی ہیں تو وہ آپ عورتوں کے نمونے بھی دیکھیں گی۔لجنہ کے اجلاسوں میں، اجتماعوں میں وہ آپ کا اٹھنا بیٹھنا اور عمل دیکھیں گی۔دینی احکام کی آپ کتنی پابندی کرتی ہیں وہ یہ سب کچھ دیکھیں گی۔آپ جس طرح اپنے بچوں کی تربیت کرتی ہیں وہ دیکھیں گی۔اور اگر آپ لوگوں کے قول وفعل میں تضاد ہوگا، اگر آپ کے رویے اسلامی تعلیم کے خلاف ہوں گے۔اگر آپ ایک دوسرے کی عزت