اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 299

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 299 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب عورت سے ٹھٹھا ہنسی مت کرو۔خاوندوں سے وہ تقاضے نہ کرو جوان کی حیثیت سے باہر ہیں۔کوشش کرو کہ تا معصوم اور پاک دامن ہونے کی حالت میں قبروں میں داخل ہو۔خدا تعالیٰ کے فرائض نماز زکوۃ وغیرہ میں سستی مت کرو۔اپنے خاوندوں کی دل و جان سے مطیع رہو۔بہت سا حصہ ان کی عزت کا تمہارے ہاتھ میں ہے۔سو تم اپنی ذمہ واری کو ایسی عمدگی سے ادا کرو کہ خدا کے نزدیک صالحات قانتات میں گنی جاؤ۔اسراف نہ کرو اور خاوندوں کے مالوں کو بے جا طور پر خرچ نہ کرو۔خیانت نہ کرو۔چوری نہ کرو۔گلہ نہ کرو۔ایک عورت دوسری عورت یا مرد پر بہتان نہ لگاوے“۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 81) پس یہ ہیں وہ تو قعات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک احمدی عورت سے رکھی ہیں اور یہ ہے وہ تعلیم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک احمدی عورت کو دی ہے۔پس آپ میں سے ہر ایک جو یہاں بیٹھی ہے یا دنیا کے کسی کو فنے میں موجود ہے۔ہر احمدی عورت جو ہے وہ اپنا جائزہ لے کہ وہ کہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توقعات پر پورا اتر رہی ہے۔کہاں تک وہ اس عہد بیعت کو نبھا رہی ہے جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا ہے۔اللہ کرے کہ ہر احمدی عورت ان توقعات اور تعلیمات پر پورا اُترنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی میں وہ روح پیدا کر دے اور جن میں وہ روح ہے ان میں وہ ہمیشہ قائم رکھے کہ وہ اس بنیادی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی اور جس کو نئے سرے سے آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم میں جاری کیا۔خدا کرے کہ آپ کی زمینیں اور آپ کے فخر دنیاوی ساز وسامان اور لہو ولعب نہ ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا ہو، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہو، اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہو، آپ کا اوڑھنا بچھونا، اٹھنا بیٹھنا صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات کے لئے ہو۔آپ کا تعلق کسی خاص وقت اور کسی خاص دور کے لئے جماعت کے ساتھ نہ ہو۔آپ کا خلافت احمدیہ کے ساتھ تعلق وقتی نہ ہو بلکہ مستقل ہو آپ کا خلافت احمدیہ کے ساتھ تعلق اور پیار کا رشتہ عارضی اور وقتی نہ ہو بلکہ مستقل ہو، ہمیشہ رہنے