اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 297
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 297 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب نظر آتے ہوں کیونکہ ایک دوسرے کے عیب تلاش کرنے کا بعضوں کو بڑا شوق ہوتا ہے۔ہر احمدی عورت کے منہ سے کبھی کوئی ایسا کلمہ نہ نکلے جو دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث ہو۔پس اگر اس بات پر عمل کرنے لگ جائیں تو کبھی معاشرے میں جھگڑے نہ ہوں۔ساس بہو، نند بھابھی میں آپس میں محبت اور پیار نظر آتا ہو تو سب ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے ہوں گے۔غض بصر سے کام لینے والے ہوں پھر پانچویں بات آپ نے یہ بتائی فرمایا کہ مغض بصر سے کام لینے والے ہوں۔اور یہ نغض بصر سے کام لینا ہی ہے جس پر اگر عمل کیا جائے مردوں کی طرف سے بھی اور عورتوں کی طرف سے بھی تو پردے کی طرف توجہ پیدا ہو سکتی ہے جس کا میں پہلے تفصیل سے ذکر کر آیا ہوں۔اپنے ہاتھوں کو ظلم سے روکے رکھو اور چھٹی بات آپ نے یہ بیان فرمائی کہ اپنے ہاتھوں کو ظلم سے روکے رکھو۔(الجامع الصغير۔باب حرف التاء۔حديث نمبر (3350) ہاتھوں کو ظلم سے روکنے کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی سے لڑائی نہیں کرنی بلکہ اس زمانہ میں ایک دوسرے کے خلاف خطوط لکھ کر یا کمپیوٹر وغیرہ کے ذریعہ باتیں پھیلا کر ایک دوسرے کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یہ بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔گو کہ اس میں مرد زیادہ نظر آتے ہیں لیکن بعض دفعہ عورتیں یہ ظلم کرواتی ہیں، مردوں کی مددگار بن رہی ہوتی ہیں یا مردوں کو اکسا رہی ہوتی ہیں۔بعض دفعہ کئی ایسے معاملات آجاتے ہیں، میرے پاس بھی آئے ہیں، کہ جن میں ماں نے بچے کو کہا کہ اس طرح اپنی سابقہ بیوی کے بارہ میں لکھ کر مختلف لوگوں کو بھیجو، بدنام کرنے کی کوشش کرو۔ای میل کر دیتے ہیں، انٹر نیٹ پر دے دیتے ہیں یا ویسے خط لکھ دیتے ہیں تا کہ اس کا کہیں رشتہ نہ ہو۔تو یہ انتہائی گھٹیا حرکتیں ہوتی ہیں۔ہمیشہ ہر احمدی کو ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کا جماعت پر بہت فضل ہے کہ کہیں کہیں اکا دُکا ایسے واقعات نظر آتے ہیں جو غیروں میں تو بہت زیادہ ہیں لیکن یہ اکا دُکا واقعات بھی جو ہیں ہمیں ہمیشہ کہا کرتا ہوں دل میں بے چینی پیدا کرنے والے ہوتے ہیں کہ یہ برائیاں کہیں بڑھ نہ جائیں۔پس ہر احمدی عورت یہ جہاد کرے کہ اس