اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 290
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 290 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب بھی۔پس یہ سوچ ہے جو ہر احمدی کو رکھنی چاہئے اور احمدی عورتوں کو خاص طور پر میں زور دے کر اس لئے کہہ رہا ہوں کہ جیسا کہ میں نے کہا آپ صرف اپنی ذمہ دار ہی نہیں بلکہ آپ آئندہ نسلوں کی بھی ذمہ دار ہیں۔خاوندوں کے گھروں کی نگران ہونے کی حیثیت سے آپ صرف اپنی زمینوں کو چھپانے والی اور ان کی حفاظت کرنے کی ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ مستقبل کے جو باپ اور مائیں بننے والے ہیں انہوں نے بھی وہی رنگ اختیار کرنا ہے جو آپ نے اختیار کیا ہوا ہے، جس کے مطابق آپ اپنی زندگی بسر کر رہی ہیں۔اس لئے آپ اگلی نسلوں کی زیتوں کی بھی ذمہ دار ہیں۔اس لئے ہمیشہ یادرکھیں کہ آپ کی زینت اور آپ کا فخر ظاہری سج دھج اور مال و متاع یا اولاد نہ ہوجیسا کہ آیت میں ذکر ہے بلکہ آپ اپنے مقام کو سمجھتے ہوئے اس زینت کو اختیار کریں جس کو اللہ نے مومنوں کے لئے پسند کیا ہے اور جس کا ذکر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: يبَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْا تِكُمْ وَرِيْشًا۔وَلِبَاسُ التَّقْوى لا ذَلِكَ خَيْرٌ ط ذَلِكَ مِنْ آيَتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ (سورۃ الاعراف: 27) کہ اے بنی آدم ! یقینا ہم نے تم پر لباس اتارا ہے جو تمہاری کمزوریوں کو ڈھانپتا ہے اور زینت کے طور پر ہے اور ہاں تقویٰ کا لباس جو سب سے بہتر ہے یہ اللہ کی آیات میں سے کچھ ہیں تا کہ وہ نصیحت پکڑیں۔سب سے بہتر لباس تقوی کا ہے جس سے تمہاری زینت بڑھتی ہے دیکھیں فرمایا کہ سب سے بہتر لباس تقویٰ کا ہے جس سے تمہاری زینت بڑھتی ہے۔اس لئے پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے ذہن سے یہ بات نکال دو کہ یہ دنیا کی چکا چوند یہ مال و متاع تمہاری زینت ہیں۔یہ تمہاری زینت نہیں ہیں، نہ ہی تمہارے لئے فخر کا مقام ہے۔یہ سب عارضی چیزیں ہیں، دھو کے ہیں۔اگر کسی آفت کی وجہ سے ضائع ہو جائیں تو یہ دنیا جس کی تمہارے نزدیک بہت وقعت ہے یہی تمہارے لئے جہنم بن جاتی ہے جیسا کہ میں پہلے کہہ آیا ہوں۔پس اپنے مقصد پیدائش کو پہچانتے ہوئے اس چیز سے اپنے آپ کو سجاؤ جو تمہارے ہمیشہ کام آئے اور وہ ہے تقویٰ۔اللہ تعالیٰ کا