اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 276

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 276 خطبه جمعه فرموده یکم جولائی 2005 (اقتباس) کے خلاف کسی بھی قسم کی بو آتی ہو تو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اس لئے یہاں سمیت تمام دنیا کے عہد یداران بھی اور امراء بھی جہاں جہاں بھی ہیں، ان سے میں کہوں گا کہ اپنے آپ کو ایک حصار میں ، ایک شیل (Shell) میں بند کر کے یا محصور کر کے نہ رکھیں، جہاں صرف ایسے لوگ آپ کے ارد گرد ہوں جو سب ٹھیک ہے کی رپورٹ دینے والے ہوں۔بلکہ ہر ایک احمدی کی ہر متعلقہ امیر اور عہد یدار تک پہنچ ہونی چاہئے تا کہ ہر طبقے اور ہر قسم کے لوگوں سے آپ کا براہ راست تعلق ہو۔بعض دفعہ، بعض نوجوان بھی ایسی معلومات دیتے ہیں اور ایسی عقل کی بات کہہ دیتے ہیں جو بڑی عمر کے لوگ یا تجربہ کارلوگوں کے ذہن میں نہیں آتی۔اس لئے کبھی بھی کسی بھی نوجوان کی یا کم پڑھے لکھے کی بات کو تخفیف یا کم نظر سے نہ دیکھیں۔وقعت نہ دیتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ہر بات کو توجہ دینی چاہئے۔پھر بعض دفعہ نو جوانوں کے ذہنوں میں بعض سوال اٹھتے ہیں اور اس معاشرے میں اور آج کل کے نوجونوں کے ذہن میں بھی باتیں اٹھتی رہتی ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ اور ایسا کیوں نہیں ہے؟۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو بھی لجنہ اماءاللہ کو بھی اور جماعتی عہدیداران کو بھی ایسے نو جوانوں کی تسلی کرانی چاہئے ، ان کو تسلی بخش جواب دینے چاہئیں تا کہ کسی فتنہ پرداز کوان کو استعمال کرنے کا موقع نہ ملے۔عورتوں کے حقوق دلوانے میں عہداران خاص طور پر توجہ دیں میں عہدیداران خاص طور پر امراء کے لئے ایک بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ مغربی ممالک میں جیسا کہ میں اپنے جلسے کی تقریر میں ذکر کر چکا ہوں عائلی یا میاں بیوی کے جھگڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔اور یہ جھگڑے ایسی نوعیت اختیار کر جاتے ہیں کہ علم ہونے اور ہمدردی ہونے کے باوجود نظام جماعت بعض پابندیوں کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکتا۔کیونکہ بعض صورتوں میں ملکی قانون ایک فریق کو حق پر نہ ہونے کے باوجود اس کے شرعی حقوق کی وجہ سے بعض حق دے دیتا ہے۔اس لئے ایسے مرد جو ظلم کر کے اپنی بیویوں کو گھروں سے نکال دیتے ہیں۔یہ بھی نہیں دیکھتے کہ موسم کی شدت کیا ہے۔پھر ایسے ظالم باپ ہوتے ہیں کہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس موسم کی شدت میں ماں کی گود میں چند ماہ کا بچہ ہے۔تو ایسے لوگوں کے خلاف نظام جماعت کو عورت کی مدد کرنی چاہئے۔پولیس میں بھی اگر کیس رجسٹر کروانا پڑے تو کروانا چاہئے۔