اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 199

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 199 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) تھا کہ یہ جو پانچ وقت کی نمازیں ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یہ جیسے کہ زائدہ بوجھ ہیں اور ان کی اس طرح پابندی کرنی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں ہے اور آجکل کے مصروف زمانے میں یہ بہت مشکل کام ہے بہر حال دہریت اور عیسائیت دونوں سے متاثر ہو کر ایسے لوگ ایسی باتیں کر سکتے ہیں۔اور ان پر یہ باتیں اثر انداز ہوتی ہیں۔مغربی معاشرے کے اثرات سے بچنا ہے اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ مغرب میں رہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے، إِلَّا مَا شَاءَ الله عموماً احمدی یہ تو ہو سکتا ہے کہ عبادت میں نمازوں میں سستی کر جائیں لیکن اس قسم کے نظریات نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت کروانے کی کیا ضرورت تھی۔یا یہ زمانہ جوسائنس کا اور مشینی زمانہ ہے اس میں اس طرح عبادات نہیں ہو سکتیں ، پابندیاں نہیں ہو سکتیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ عموماً تو نہیں ہوتے لیکن اگر چند ایک بھی ایسے احمدی ہوں جن کا جماعت سے اتنازیادہ تعلق نہ ہو تعلق سے میری مراد ہے جماعتی پروگراموں میں حصہ نہ لیتے ہوں یا جلسوں وغیرہ پر نہ آتے ہوں یا جن کا دینی علم نہ ہو، ایسے لوگ اپنے آپ کو بڑا پڑھا لکھا بھی سمجھتے ہیں، یہ لوگ ایسی باتیں کر جاتے ہیں۔اپنے ماحول میں اس قسم کی باتوں سے برائی کا بیج بو سکتے ہیں۔یا بعض دفعہ جیسا کہ میں نے کہا کہ جو لامذہب قسم کے لوگ ہوتے ہیں وہ بھی ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔اور کیونکہ برائی کے جال میں انسان بڑی جلدی پھنستا ہے اس لئے بہر حال فکر بھی پیدا ہوتی ہے کہ ایسے مغربی معاشرے میں جہاں مادیت زیادہ ہو، اس قسم کی باتیں کہیں اوروں کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔اس وجہ سے میں نے اس موضوع کولیا ہے۔ذیلی تنظیموں کی ذمہ داریاں لیکن کچھ کہنے سے پہلے ذیلی تنظیموں خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے ماحول میں جائزہ لیتے رہیں۔عموماً جو احمدی کہلانے والے ہیں عموماً ان تک ان کی پہنچ ہونی چاہئے۔جو نو جوان دُور ہٹے ہوتے ہیں ان کو قریب لانا چاہئے تا کہ اس قسم کی ذہنیت یا اس قسم کی باتیں ان کے ذہنوں سے نکلیں۔