اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 11
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 11 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب وغیرہ میں اس لئے نہیں بھیجتیں کہ وہاں جا کر دوسرے بچوں سے غلط باتیں اور بدتمیزیاں سیکھتے ہیں۔یہ تو پتہ نہیں کہ وہ بد تمیزیاں یا غلط باتیں سیکھتے ہیں کہ نہیں لیکن تجربے کی بات ہے کہ ایسے بچے بڑے ہو کر دین سے بھی پرے ہٹتے دیکھے گئے ہیں اور پھر وہ ماں باپ کے بھی کسی کام کے نہیں رہتے۔اس لئے غلط ماحول سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کو جماعتی نظام کے ماحول سے باندھ کر رکھیں۔یہ حدیث سامنے رکھیں۔مسلم کی حدیث ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت علی نے فرمایا: ہر بچہ فطرت اسلامی پر پیدا ہوتا ہے۔پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔(یعنی قریبی ماحول سے بچے کا ذہن متاثر ہوتا ہے)۔جیسے جانور کا بچہ صحیح و سالم پیدا ہوتا ہے کیا تمہیں ان میں کوئی کان کٹا نظر آتا ہے؟ “ ( کیونکہ بعد میں پھر جانور کے بچوں کو عیب دار بناتے ہیں )۔(صحیح مسلم كتاب القدر باب معنى كل مولود يولد على الفطرة) حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ اس ضمن میں فرماتے ہیں: ,, یہ بالکل سچی بات ہے کہ انسان پاکیزہ فطرت لے کر آتا ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ ماں باپ کے اثر کے ماتحت بعض بدیوں کے میلان کو بھی لے کر آتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ فطرت اور میلان میں فرق ہے۔فطرت تو وہ مادہ ہے جسے ضمیر کہتے ہیں۔یہ ہمیشہ پاک ہوتی ہے۔کبھی بد نہیں ہوتی۔خواہ ڈا کو یا قاتل کے ہاں بھی کوئی بچہ کیوں پیدا نہ ہو، اس کی فطرت صحیح ہوگی مگر یہ کمزوری اس کے اندر رہے گی کہ اگر اس کے والدین کے خیالات گندے تھے تو ان خیالات کا اثر اگر کسی وقت اس پر پڑے تو یہ ان کو جلد قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔جیسا کہ مرضوں کا حال ہے کہ جو بیماریاں پختہ ہوتی ہیں اور جزو بدن ہو جاتی ہیں، ان کا اثر بچوں پر اس رنگ میں آجاتا ہے کہ ان بیماریوں کے بڑھانے والے سامان اگر پیدا ہو جائیں تو وہ اس اثر کو نسبتاً جلدی قبول کر لیتے ہیں۔یہ اثر جو ایک بچہ اپنے ماں باپ سے قبول کر لیتا