اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 133

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 133 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب رکھنا چاہئے کیونکہ جس بندھن کے تحت عورت اور مرد آپس میں بندھے ہیں وہ ایک زندگی بھر کا معاہدہ ہے اور معاہدے کی پاسداری بھی اسلام کا بنیادی حکم ہے۔معاہدوں کو پورا کرنے والے اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ٹھہرتے ہیں۔اور کیونکہ یہ ایک ایسا بندھن ہے جس میں ایک دوسرے کے راز دار بھی ہوتے ہیں اس لئے فرمایا کہ مرد کی بہت سی باتوں کی عورت گواہ ہوتی ہے کہ اس میں کیا کیا نیکیاں ہیں، کیا خوبیاں ہیں، کیا برائیاں ہیں۔اس کے اخلاق کا معیار کیا ہے؟ تو حضرت اقدس مسیح موعود فرمارہے ہیں کہ اگر مرد عورت سے صحیح سلوک نہیں کرتا اور اس کے ساتھ صلح صفائی سے نہیں رہتا، اس کے حقوق ادا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کیسے ادا کرے گا، اس کی عبادت کس طرح کرے گا، کس منہ سے اس سے رحم مانگے گا؟ جبکہ وہ خود اپنی بیوی پر ظلم کرنے والا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں سے وہی اچھا ہے جو اپنے اہل سے اچھا ہے، اپنی بیوی سے اچھا ہے۔تو دیکھیں یہ ہے عورت کا تحفظ جو اسلام نے کیا ہے۔اب کونسا مذ ہب ہے جو اس طرح عورت کو تحفظ دے رہا ہو۔اس کے حقوق کا اس طرح خیال رکھتا ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا طَ وَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَا اتَيْتُمُوْهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًا ) (النساء:20) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم زبر دستی کرتے ہوئے عورتوں کا ورثہ لو۔اور انہیں اس غرض سے تنگ نہ کرو کہ تم جو کچھ انہیں دے بیٹھے ہو اس میں سے کچھ لے بھا گو۔سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوئی ہوں۔اور ان سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔اور اگر تم انہیں نا پسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کونا پسند کرو اور اللہ تعالی اس میں بھلائی رکھ دے۔تو فرمایا کہ اے مومنو! جو یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ہمیں اللہ تعالیٰ پر بھی ایمان ہے اور اس کے رسول پر بھی ایمان ہے تو اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو ہم تمہیں اللہ اور اس کے رسول نے دیئے ہیں ان پر عمل