اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 402 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 402

حضرت خلیفہ آسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۰۲ خطاب ۲۶ اگست ۱۹۹۴ء سکتی کیونکہ ایسی عظیم مائیں ہی ہیں جو اپنے دودھ میں بچوں کو قربانیوں کی تمنائیں پلاتی ہیں ،شہادت کی آرزوئیں پلاتی ہیں اور صبر و استقامت کے راز پلاتی ہیں اور ایسی ماؤں کے بچے ہمیشہ قوموں کی زندگی کا موجب بنا کرتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ فرماتا ہے کہ جب شہید بھی ہو جائیں تو ان کو مردہ نہ کہو کیونکہ وہ تو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیئے گئے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ کل یہ واقعہ ہو ، پرسوں یا آئندہ کسی وقت لیکن میں تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے آپ کو بتا رہا ہوں کہ خدا کی خاطر ترقی کرنے والی قومیں جو الہی آگے قدم بڑھاتی ہیں ان کے راستے میں ضرور گڑھے کھودے جاتے ہیں ، اُن کو ضرور آزمائشوں میں سے گزرنا پڑتا ہے لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اللہ پر توکل رکھتے ہوئے اس طرح قربانی کے رستے پہ آگے بڑھیں گی تو تمام آگئیں آپ کے لئے ٹھنڈی کر دی جائیں گی۔ہر تکلیف دوسروں کو دکھائی دے گی مگر آپ خوشی کے ساتھ مسکراتی ہوئی ان تکلیفوں میں سے گزر جائیں گی۔ہمیشہ سے یہی ہوا ہے اور یہی ابراہیمی سنت کی روح ہے جو قرآن کریم نے ہمارے لئے ہمیشہ کے لئے محفوظ فرما دی ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب ابراہیم کو آگ میں ڈالنے کی تیاری ہو رہی تھی اور آگ میں جھونکنے کے لئے قوم تیار ہو چکی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا نَارُ كُونِى بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبياء ٧٠ ) اے آگ! میرے بندے ابراہیم پر ٹھنڈی ہو جا اور وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی۔یہ وہ حقیقت ہے جو ہمیشہ سے ابرا ہیمی صفت لوگوں کے حق میں پوری ہوتی چلی آئی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں یہ ماضی کا واقعہ ہے، ہزاروں سال پہلے کی بات ہے، صرف ابراہیم کے لئے ہوئی تھی ،مگر ہرگز نہیں۔ابراہیمی صفت رکھنے والے ہر بندے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے یہ آواز اُترتی ہے کہ يُنَارُ كُونِی بَردًا سَلَمَّا عَلَى اِبراهیم آپ جن کو نہایت تکلیف اور دکھوں کی حالت میں جان دیتے ہوئے دیکھتے ہیں، جیسا کہ میں نے بیان کیا آپ کو کیا پتہ کہ ان کی اپنی کیفیت کیا تھی۔یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں ، ان کو سکینت بخشتے ہیں، ان کو اطمینان دلاتے ہیں ، ان کے غموں کا ساتھی بن جاتے ہیں، ان کو آئندہ کی خوش خبریاں دیتے ہیں۔اور یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں اپنے منہ سے نہیں، قرآن نے یہ بات سکھائی ہے۔قرآن ہی کا پیغام میں آپ تک پہنچاتا رہا ہوں۔قرآن کریم فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا یقیناً وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر اس بات پر قائم ہو جاتے ہیں اور کوئی آندھی ، کوئی زلزلہ ان کو اپنی بات سے ٹال نہیں سکتا۔پھر کیا ہوتا ہے