امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 300 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 300

هو الكافر (ابوداؤد كتاب السنه حديث نمبر 1626) کہ جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر ٹھہرائے تو خود کا فر ہو جاتا ہے۔جہاں تک نکاح کا سوال ہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ نے کسی احمدی لڑکی کا کسی غیر احمدی مسلمان سے نکاح کے باطل ہونے کا فتویٰ نہیں دیا۔یہ حفظ ما تقدم کے طور پر ایک خالص انتظامی سہولت کا مسئلہ ہے تا کہ بعد میں پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں۔شادی بیاہ سے پہلے معاشرتی ہم آہنگی اور کفو کی بناء پر ہی رشتے طے کئے جاتے ہیں اور اگر معاشرتی تفاوت اور دیگر ذاتی وجوہ کی بناء پر کوئی رشتہ نہ کیا جائے تو اس سے تکفیر لازم نہیں آتی۔شادی بیاہ سے پہلے لوگ خاندانی پیشہ ورانہ، اقتصادی ، مذہبی ، ذہنی اور ثقافتی حالات کو مد نظر رکھتے ہی ہیں اور اسی بناء پر رشتے قبول یا رڈ کیے جاتے ہیں۔غرضیکہ یہ کوئی ایسے معاملات نہیں ہیں جو اساس دین ہوں۔جہاں تک احمدیوں کے اُمت مسلمہ کے تناظر میں قول وفعل کا تعلق ہے تاریخ میں جماعت احمدیہ کی ملتی خدمات سنہری حروف میں لکھی جانے کے قابل ہیں۔جماعت احمد یہ نے ہمیشہ ہی مسلم ملتی مفاد کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ رکھا۔کوئی ایک موقعہ بھی ایسا نہیں جب جماعت احمدیہ نے مسلمانوں کے ساتھ ملتی یگانگت کا ثبوت نہ دیا ہو۔وہ مسلم لیگ کی تحریک ہو یا کشمیری مسلمانوں کے بہبود کا سوال شدھی کی تحریک ہو یا آریوں اور عیسائیوں کے خلاف جہاد کا مسئلہ فلسطین کا قضیہ ہو یا کشمیر کا جھگڑا، ہر دور میں ہر موڑ پر جماعت احمد یہ ملت اسلامیہ کے ساتھ ہمیشہ بنیان مرصوص بن کر کھڑی ہوئی۔عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحات نمبر 95 سے نمبر 100 تک یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے دیگر انبیاء سے برابری یا ان میں سے بعض سے افضلیت کا دعویٰ کیا ہے۔عدالت کے فیصلہ کا یہ حصہ بھی عدم واقفیت اور مذہبی علوم سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔300