نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 339 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 339

اس کا خوب پتہ لگتا ہے اور کیا ان کے بزرگ رشی منوجی معقول پسند تھے؟ ہمارے پیارے دوست سردار فضل حق صاحب سابق سردار سندر سنگھ ساکن دہرمکوٹ بگہ نے اتفاقاً پروفوں کا مجموعہ پڑھا اور کہا کہ اگر دہرم پال کی فطرت باقی ہے اور اس کو اس کتاب کے پڑھنے کا اس کی کسی سعادت کے باعث موقع ہوا تو وہ یہاں آجائے گا۔میں نے عرض کیا یہ گالیاں اور راہ راست کی کامیابی۔عجب عجب!! سردار صاحب نے مجھے یہ بھی کہا ہے کہ بعض جواب بہت اختصار سے دئیے گئے ہیں اور الزامی جواب بکثرت نہیں۔مثلاً سوال نمبر۱۰۰ مسئلہ طلاق میں تارک اسلام نے لکھا ہے کہ بدشکل لڑکیاں پیدا کرنے والی کو طلاق دی جاتی ہے حالانکہ یہ بات قرآن کریم میں کہیں نہیں۔قرآن کریم نے نہیں فرمایا کہ ایسی عورت کو طلاق دی جاوے ہاں آریہ سماج نے نیوگ کے ذکر میں اس بات کو لکھا ہے اسی طرح سوال نمبر ۱۰۵میں قریب رشتہ میں شادی کرنے پر جو اعتراض ہے اس پر اتنا بھی نہیں بتایا گیا کہ جب آریہ دھرم اپنی معراج پر تھا اس وقت سری کرشن جی کی بہن کی شادی ارجن جی کے ساتھ کی گئی حالانکہ وہ پھوپھی کی لڑکی تھی۔نیز تارک اسلام نے اسلام پر ہنسی کی ہے اسلام پر نہیں بلکہ دیانند جی پر کی ہے جہاں کہا ہے دیکھو صفحہ ۳۰۱سوال نمبر۱۰۴ جہاں کہا ہے اسلام نے نکاح کو دولت کمانے کا نسخہ بتایا ہے کیونکہ رگوید آدی بہاش بہومکا ترجمہ نہال سنگھ کرنالی صفحہ ۱۵۲میں لکھا ہے۔گرہ اشرم (نکاح کرنے)میں داخل ہونے پر خوف مت کرو اور اس سے مت کانپو۔تم کو قوت اور حوصلہ کے ساتھ یہ ارادہ رکھنا چاہیے کہ ہم جملہ سامان راحت حاصل کریں۔میں تم کو کل سامان راحت عطا کروں گا۔لاکن میں نے عرض کیا کہ اس کتاب کو سردست شائع ہونے دو۔میں اللہ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرکے امیدوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ محض اپنی رحمت سے اس محنت کو مثمر ثمرات خیر فرماوے۔نقص سے میرے جیسے انسان کا کلام محفوظ ہو یہ خیال صحیح نہیں۔ہاں طبائع مختلف ہیں