نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 299 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 299

سوم۔عورت کے لیے یہ تکالیف با اسباب پنر جنم خیال کی جاویں تو بقیہ عدمِ مساوات کا عذر وسیع کیوں نہ کیا جاوے۔چہارم۔یہ آیت جس کا حوالہ سوال میں دیا گیا ہے یہ ہے۔(الاحزاب:۶۰) ترجمہ۔اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ کہ بڑی چادریں اُوڑھ لیا کریں اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ وہ پہچانی جائیں گی اور ستائی نہ جائیں گی اور اللہ غفور و رحیم ہے۔اور اس کے ماقبل یوں ہے(الاحزاب:۵۹) اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو خواہ مخواہ بغیر ان کے اکتساب کے ایذاء دیتے ہیں وہ بہتان اور بڑی بد کاری کا ارتکاب کرتے ہیں۔اور اس کے بعد یہ آیت ہے (الاحزاب:۶۱) یعنی اگر یہ منافق اور دل کے بیمار اور مدینہ میں بری خبریں اڑانے والے باز نہیں آئیں گے تو ہم تجھے ان کی سزا دہی پر آمادہ کریں گے پھر یہ مدینہ میں تیرے قرب وجوار میں رہنے نہیں پائیں گے۔ان آیات کا مطلب اور قصہ یہ ہے کہ مدینہ کے بعض بدمعاش مسلمان عورتوں کو چھیڑتے تھے اور عورتوں کو دکھ دے کر ان کے متعلق لوگوں کو تکلیف پہنچاتے تھے۔چونکہ بظاہر مومن ہونے کے مدعی تھے اس لیے جب پکڑے جاتے تو عذر کر دیتے کہ اس کو ہم نے پہچانا نہیں۔اس واسطہ یہ