نُورِ ہدایت — Page vii
قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اُس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں۔۔کھل کھلا اعجا ز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق اپنے اندر رکھتا ہے۔جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔۔۔۔قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب و غرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صُحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔“ اسی طرح فرمایا: قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں۔اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔یہ بھی یا درکھیں کہ قرآن شریف کے ایک معنے کے ساتھ اگر دوسرے معنے بھی ہوں تو ان دونوں معنوں میں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہدایت قرآنی میں کوئی نقص عائد حال ہوتا ہے۔بلکہ ایک نور کے ساتھ دوسرا نور مل کر عظمت فرقانی کی روشنی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔اور چونکہ زمانہ غیر محدود انقلابات کی وجہ سے غیر محدود خیالات کا بالطبع محرک ہے لہذا اس کانٹے پیرا یہ میں ہو کر جلوہ گر ہونا یا نئے نئے علوم کو بمنصہ ظہور لانا، نئے نئے بدعات اور محدثات کو دکھلانا ایک ضروری امر اس کے لئے پڑا ہوا ہے۔۔۔۔قرآن ہلا کریب غیر محدود معارف پر مشتمل ہے اور ہر یک زمانہ کی ضرورات لاحقہ کا کامل طور پر متکفل ہے۔66 (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 255 تا264) الغرض قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی پیشگوئیوں کے مطابق ممکنتِ دین اسلام اور تعلیمات حقہ قرآنی کی اشاعت و ترویج کے لئے اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔چنانچہ آپ اور آپ کے بعد آپ کے خلفائے کرام ہی وہ مقدس اور مبارک وجود ہیں جن کے ذریعہ سے تعلیم کتاب و حکمت اور اشاعت نور ہدایت قرآنی کا کام ساری دنیا میں جاری ہے۔اس لئے ان آیات و سور قرآنی کی تشریح و تفسیر کے لئے انہیں مطہر و مقدس وجودوں کی بیان فرمودہ تفاسیر سے استفادہ کیا گیا ہے۔حقائق و معارف قرآنی پر مشتمل VII