نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 573 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 573

ہوں۔ایک معنی تو یہ ہے کہ یہ قومی خطاب ہے کیونکہ اس میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قومی تقدیر اس طرح پر بنے گی کہ فرشتے نازل ہوں گے گو انفرادی طور پر کچھ نقصان بھی پہنچیں گے لیکن بالآخر ہر نقصان کے بعد ایسے سامان پیدا کئے جائیں گے کہ وہ مومنین جو استقامت دکھائیں گے وہ پہلے سے بہت بہتر حالت میں ہوں گے۔ان کے چند روپے لوٹے جائیں گے تو وہ لکھوکھا میں تبدیل ہو جائیں گے۔ان کی چند جانیں جائیں گی تو لکھوکھا اور لوگ ان میں شامل ہوں گے اور ان کی اولادوں میں بھی برکت دی جائے گی۔یہ ایسی قوم ہے جس کو ہمیشہ زن ہی کے راستوں پر نہیں چلنا۔ان کے غم پیچھے رہتے چلے جائیں گے اور خوشیاں ان کے آگے آگے دوڑیں گی اور ان کے تمام خوف امن میں تبدیل کر دئیے جایا کریں گے۔اور دوسرا معنی یہ ہے کہ ان استقامت دکھانے والوں میں خدا کے کچھ ایسے بندے بھی ہوں گے جن کو خدا کے رستے کے غم غم نظر نہیں آئیں گے۔جن کو جب خدا کے نام پر ڈرایا جائے گا اور خدا کا نام لینے کے نتیجہ میں ڈرایا جائے گا تو وہ خوف سے آزادلوگ ہوں گے۔چنانچہ اس گروہ کے متعلق ایک دوسری جگہ خدا نے فرمایا: الا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ (يونس 63) کہ انہی لوگوں میں جن پر فرشتے نازل ہو کر یہ کہتے ہیں کہ غم نہ کھاؤ اور خوف نہ کرو کچھ ایسے لوگ ہیں جو غم اور خوف سے پہلے سے ہی آزاد کر دئیے گئے ہیں کیونکہ یہ اولیاء اللہ ہیں۔اور ان دونوں معنوں کے لحاظ سے جنت کی خوشخبری کی تعبیریں بھی الگ الگ کی گئیں۔یعنی وہ لوگ جو شہید ہوتے ہیں ان کو جب فرشتے کہتے ہیں کہ خوف نہ کھاؤ اور غم نہ کرو یا غم نہ کرو اور خوف نہ کھاؤ تو اس کے کیا معنی ہوتے ہیں ، کیا وہ لوگ اس کو طعن سمجھتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ خدا کی راہ میں جو کچھ وہ پیش کرنا چاہتے ہیں وہ ان کے دل کی تمنا ہوتی ہے اور وہ یہی چاہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں شہید کر دئیے جائیں۔573