نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 545 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 545

علیہ وسلم خاتم الانبیاء کے نور سے نور لیا اور وہ دنیا میں چمکے اور بعد میں آنے والوں نے بھی آپ ہی کے نور سے نور لیا یعنی ہر قسم کا قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی حاصل ہوتا ہے صدیق بھی نہیں بن سکتے جب تک آپ سے نور نہ لیں اور شہید یا صالح بھی نہیں بن سکتے جب تک یہ نور نہ حاصل کریں ان سے بھی جو کم ہیں یعنی چھوٹے سے چھوٹا پیار بھی خدا سے حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ اس نور کی جھلک ان کے اندر پیدا نہ ہو تب اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (النور (36) اپنی کچھ مشابہت دیکھ کر یعنی اس نور کی جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کیا ہوتا ہے اپنے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے۔یہ ہے ہمارا یمان اور یہ ہے ہمارا عقیدہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ، کہ ایک ہی وقت میں آپ بشر بھی ہیں اور نور بھی ہیں۔نور کے متعلق میں نے ذرا تفصیل سے بتایا ہے اور بشر کے متعلق میں نے مختصر بتایا ہے لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ اُسوہ بننے کے لئے سپر (super) کی ضرورت نہیں تھی۔کوئی بن ہی نہیں سکتا۔انسان انسان کے لئے اُسوہ بن سکتا ہے اور بشر بشر کے لئے اسوہ بن سکتا ہے۔فرشتے بشر کے لئے اسوہ نہیں بن سکتے۔تو خدا نے آپ کو بشر بنایا اور قرآن کریم نے آپ کی وفات کا ذکر کیا۔شعراء روئے کہ ہماری آنکھوں کا نور تو تھا۔شاعر بھٹک بھی جاتا ہے اور یہاں بھی شاعر بھٹکا کہ میری آنکھوں کا نور تو تھا۔اب میرے لئے دنیا اندھیر ہو گئی ہے۔یہ درست ہے کہ یہ جذبات کا اظہار ہے اور بڑا پیارا اظہار ہے لیکن آنکھوں کا نور تو ہم سے علیحدہ نہیں ہوا۔وہ تو جب سے دنیا بنی ہے وہ نور اس دنیا، اس کا ئنات کے ساتھ لگا ہوا ہے سب سے پہلا نبی جو دنیا کی طرف آیا اس نے بھی اس نور سے حصہ لیا۔وہ نور دنیا سے کس طرح علیحدہ ہو گیا، لیکن یہ ٹھیک ہے کہ بشر کا جو وجود تھا اس کے لحاظ سے کچھ عرصے کے بعد وفات ہوگئی لیکن بنی نوع انسان کے لئے اتنا عظیم اُسوہ آپ نے چھوڑا ہے۔بنی نوع انسان تو جب تک مانے نہیں فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔آپ نے اپنے متبعین، امت محمدیہ کے لئے اتنا عظیم اسوہ چھوڑا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔بشر کے لحاظ سے بھی ہم آپ کی ذات اپنے تصور میں لائیں یا نور اور سراج منیر کے لحاظ سے آپ کی ذات اپنے تصور میں لائیں بے اختیار ہمارے منہ سے 545