نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 521 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 521

أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزُنًا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: (الكهف (106) فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِیمَةِ وَزُنًا میں گناہ کا ذکر نہیں ہے۔اس کا باعث صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے دنیا کی خواہشوں کو مقدم رکھا ہوا تھا۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ دنیا کا حظ پاچکے۔وہاں بھی گناہ کاذ کر نہیں بلکہ دنیا کی لذات جن کو خدا تعالیٰ نے جائز کیا ہے ان میں منہمک ہو جانے کا ذکر ہے۔اس قسم کے لوگوں کا مرتبہ عند اللہ کچھ نہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی عزت کا مقام دیا جائے گا۔شیریں زندگی اصل میں ایک شیطان ہے جو کہ انسان کو دھو کہ دیتی ہے۔مومن تو خود مصیبت خریدتا ہے ورنہ اگر وہ مداہنہ برتے تو ہر طرح آرام سے رہ سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس طرح کرتے تو اس قدر جنگیں کیوں ہوتیں لیکن آپ نے دین کو مقدم رکھا اس لئے سب دشمن ہو گئے۔( البدر جلد 3 نمبر 29 مورخہ یکم اگست 1904ء صفحہ 3) مؤمن آدمی کا سب ہم و غم خدا کے واسطے ہوتا ہے دنیا کے لئے نہیں ہوتا اور وہ دنیاوی کاموں کو کچھ خوشی سے نہیں کرتا بلکہ اداس سا رہتا ہے اور یہی نجات حیات کا طریق ہے۔اور وہ جو دنیا کے پھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے ہم وغم سب دنیا کے ہی لئے ہوتے ہیں۔ان کی نسبت تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزْنا ہم قیامت کو ان کا ذرہ بھر بھی قدر نہیں کریں گے۔الحکم جلد 11 نمبر 34 مورخہ 24 ستمبر 1907 ، صفحہ 9) 521