نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page v of 1207

نُورِ ہدایت — Page v

بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبدة المسيح الموعود پیش لفظ 18 مئی 1996ء کو ہیمبرگ ( جرمنی ) میں واقفین کو بچوں اور بچیوں کی ایک کلاس حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ساتھ منعقد ہوئی۔اس کلاس کے دوران حضور رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا کہ اذان کے بعد کی دعا کس کو آتی ہے تو سوائے ایک آدھ کے کسی کو بھی یہ دعا یاد نہیں تھی اور اس کا ترجمہ بھی کسی کو نہیں آتا تھا۔حضور رحمہ اللہ نے اچھی طرح سمجھا کر اذان کے بعد کی دعا اور اس کا ترجمہ سکھایا اور تاکید فرمائی کہ آپ نظمیں یا دعا ئیں جو کچھ بھی یاد کریں اس کے ترجمہ و مفہوم کو بھی اچھی طرح یاد کریں۔اسی تسلسل میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ : بچوں کو خصوصیت سے اور بڑوں کو بھی وہ آیتیں یاد کرنی چاہئیں جن کی نمازوں میں تلاوت کرتا ہوں اور اکثر میں فجر ، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں بدل بدل کر تلاوت کرتا ہوں۔“ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ : یہ آمیتیں جو میں نے پچنی ہیں کسی مقصد کے لئے پچھنی ہیں۔اگر ان کا ترجمہ آتا ہو تو اس کا دل پر اثر پڑے گا۔اگر مطلب نہ آتا ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔“ اسی طرح حضور رحمہ اللہ نے تاکیدی ہدایت فرمائی کہ: جوسورت تلاوت کریں اس کا ترجمہ ضرور آنا چاہئے۔ترجمہ کو غور سے پڑھیں اور یاد کریں اور اتنا یاد کریں کہ ادھر تلاوت ہو رہی ہو اور اُدھر آپ کے دل میں اس کا مضمون اتر رہا ہو حتی کہ آپ کا دل قرآن کی عظمت سے بھر جائے۔“ الفضل انٹرنیشنل 7 تا 13 جون 1996 صفحہ 9) نے حضور رحمہ اللہ کی نمازوں میں تلاوت فرمودہ اپریل 1997ء میں آیات کو یکجا کر کے مع ترجمہ شائع کیا۔کے آخر پر انہوں نے اس کا دوسرا ایڈیشن تیار کیا جس کے آغاز میں ایک تحقیقی اور معلوماتی نوٹ بھی شامل کیا گیا جس میں ان آیات و سور قرآنی کی