نُورِ ہدایت — Page 297
کے گھر پر مشتعل ہجوم حملہ آور ہوا تو ان کے سامنے اکیلی عورت کھڑی ہو گئی اور خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے اس گھر کو اپنی حفظ وامان میں لے لیا۔اس حفاظت کا ایک زبردست نظارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت دکھایا جب آپ صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ دہلی تشریف لے گئے تھے جہاں ایک بڑے مشتعل ہجوم نے آپ پر حملہ کیا اور یہ نہتے دُہری چاردیواری کے اندر اپنے قادر و توانا خدا کے سہارے بیٹھے تھے۔مادی لحاظ سے یا دنیوی سامانوں کے لحاظ سے اپنی مدافعت کا کوئی سامان ان کے پاس نہ تھا۔مگر اللہ تعالی جو عظیم قدرتوں کا مالک ہے اس کی حفاظت کا شرف انہیں حاصل تھا۔چنانچہ ہجوم باہر کا دروازہ توڑ کر اندر صحن میں داخل ہو گیا پھر اندر کے صحن کا دروازہ توڑ ہی رہے تھے کہ کسی نامعلوم وجہ سے اپنے آپ ہی واپس چلے گئے۔اب دنیا کو تو وہ وجہ نظر نہیں آتی لیکن ہمیں تو وہ وجہ نظر آتی ہے۔یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا زبردست رُعب تھا جو اُن کے دلوں پر ڈالا گیا اور وہ اس وجہ سے ڈر کر واپس چلے گئے۔چنانچہ یہ ایک عظیم معجزہ اور اللہ تعالیٰ کے پیار کا ایک عجیب مظاہرہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں رونما ہوا۔جس سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ پر توکل کریں گے تو ہمیں بھی اس طرح اللہ تعالیٰ کی حفظ وامان حاصل رہے گی اور مخالف کا کوئی وار کامیاب تو کیا ہوگا وہ اس موقعہ پر خود ہی خائب وخاسر ہو کر لوٹ جائے گا۔پس یہاں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر بار کو خدا کے سپرد کر کے خدا تعالیٰ کے لئے اپنا وقت دینے کیلئے چلا جاتا ہے وہی عقل مند ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ میرا گھر نگا ہے پہرے کا کوئی انتظام نہیں اجازت دیجئے کہ میں جہاد میں شامل ہونے کی بجائے گھر بار کی حفاظت کروں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا شخص در اصل غیر محفوظ ہے وہ چاہے جتنے مرضی انتظام کرے، مضبوط سے مضبوط قلعے بنالے وہ ملک الموت سے بچ نہیں سکتا وہ ایسے وقت میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔297