نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 18 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 18

تفصیل روایات حضرت خلیفتہ المسیح الثانی شام کی نماز میں سورۃ الفیل اور دوسری رکعت میں قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النامیں پڑھتے ہیں اور عشاء کی نماز میں سورۃ الضحی اور سورۃ التین پڑھتے ہیں۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد 9 صفحہ 37 روایت حضرت میاں عبد العزیز صاحب المعروف مغل) ( بحوالہ خط سید مبشر ایاز صاحب محرره 16۔2۔14) حضرت مصلح موعود نماز جمعہ اور عیدین میں باقاعدگی سے سورۃ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأخلی اور سورة هل أتك حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ تلاوت فرماتے تھے۔البتہ لاہور رتن باغ میں ایک دفعہ سورۃ الدھر اور سورۃ القیامۃ بھی تلاوت فرمائی۔روزانہ مغرب کی نماز پڑھاتے ہوئے ایک رکعت میں سورۃ الفیل تلاوت فرماتے تھے۔( روایت بحوالہ خط مکرم محترم سید میرمحمود احمد ناصر صاحب محرره 3۔2۔14) حضرت مصلح موعود اپنی تقریر فرمودہ 26 مئی 1935ء بمقام قادیان فرماتے ہیں۔جنگ عظیم کے زمانہ میں جب لڑکی لڑائی میں شامل ہوا اور بعض حکومتوں نے تجویز کیا کہ عرب پر حملہ کیا جائے تو یہ خبر سنتے ہی میں نے مغرب کی نماز میں سورۃ الفیل اس لئے پڑھنی شروع کر دی کہ خدا تعالیٰ مکہ کو دشمنوں کے حملہ سے بچائے۔آج اس پر بیس سال کے قریب گزر چکے ہیں اور میں بغیر ایک ناغہ کے یہ دعا کرتا رہا ہوں۔“ محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی روایت کے مطابق حضرت مصلح موعود مغرب کی نماز میں سورۃ الفیل اور سورۃ الناس کی تلاوت فرماتے۔نماز جمعہ میں سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیۃ اور نماز فجر میں سورۃ الغاشیۃ اور دیگر مختلف سورتیں پڑھتے تھے۔مکرم سید قمر سلیمان صاحب بیان کرتے ہیں کہ بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ حضور فجر کی نماز اور نماز جمعہ میں سورۃ الغاشیۃ اور سورۃ الاعلیٰ۔نماز مغرب میں سورۃ الفیل اور سورۃ الناس جب کہ نما ز عشاء میں سورۃ الضحی اور سورۃ التین کی تلاوت فرماتے۔روایت بحوالہ خط مکرم ناصر حمد شمس صاحب ، سیکرٹری فضل عمر فاؤنڈیشن - محررہ 22۔10۔14) 18