نُورِ ہدایت — Page 1139
ہے اس احساس کے بعد کہ ہماری کوششیں نہیں تھیں، اللہ کے فضل تھے۔لیکن وہ کھوکھلی اور ہلکی باتیں جو ان رازوں کو نہ سمجھنے والے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہیں ہر ماحصل کے بعد ، ان کھوکھلی باتوں سے مومن محفوظ رکھا جاتا ہے۔خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرمود وہ 15 اکتوبر 1985ء۔خطبات طاہر جلد اوّل صفحہ 201 - 208) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ماہ رمضان المبارک 2016ء کے آخری روز مسجد فضل لندن میں قرآن مجید کی آخری تین سورتوں کا درس ارشاد فرمایا۔حضور انور ایدہ اللہ نے اس میں سورۃ الفلق کا درس دیتے ہوئے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ” کہہ میں شریر مخلوقات کی شرارتوں سے خدا کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اور اندھیری رات سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں۔اس کی وضاحت آپ نے یہ فرمائی۔یعنی یہ زمانہ اپنے فساد عظیم کے رُو سے اندھیری رات کی مانند ہے۔رات جو چھا جاتی ہے وہ رات صرف مراد نہیں بلکہ جو زمانہ ہے وہ گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے، دنیا داری میں ڈوبا ہوا ہے۔اس کے جو شر ہیں ان سے پناہ مانگتا ہوں اور ایک فساد عظیم اس وجہ سے دنیا میں پیدا ہوا ہے۔فرمایا ”سواہی قو تیں اور طاقتیں اس زمانہ کی تنویر کے لئے درکار ہیں۔انسانی طاقتوں سے یہ کام انجام ہونا محال ہے۔“ 66 ( براہین احمدیہ حصہ چہارم ، روحانی خزائن جلد 1 صفحه 604 حاشیہ) اب اللہ تعالیٰ نے تو یہ دعا اس لئے بتائی کہ مخلوقات کی شرارتیں ہر زمانے میں ہوتی ہیں اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں اور یہ زمانہ جس میں مسیح موعود کا ظہور ہونا تھا خاص طور پر اس بات کا متقاضی تھا اور ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاص پناہ تلاش کی جائے۔اللہ تعالیٰ کی پناہ کے بھی ذرائع ہیں۔کس طرح وہ پناہ دیتا ہے؟ مختلف ذریعے ہیں۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اس فساد زدہ زمانے ، اندھیرے زمانے،روحانیت سے دُور ہٹ کر اندھیرا پھیلنے کے زمانے کے لئے مسیح موعود کو بھیجا ہے 1139