نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1137 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1137

چلا جائے گا۔یہ وہ تقدیر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے تم دعائیں کرو۔پھر فرماتا ہے وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ اگر کوئی ان تمام احتیاطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کے راستہ پر آگے بڑھتا چلا جائے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل اتنے بڑھائے گا اور شر سے اس طرح محفوظ رکھتا چلا جائے گا کہ ہر قدم حصول خیر و برکت کا قدم تو ہوگا۔ٹھوکر اور تنزل کا قدم نہیں ہوگا۔جب تم اس مقام پر پہنچو گے تو ایک اور قسم کا اندھیرا بھی تمہاری راہ میں منتظر ہوگا اور وہ حاسد کا حسد ہے۔تقُفتِ فِي الْعُقد کے بعد حاسد کے حسد کا مضمون رکھا گیا۔یہ کیوں ہے؟ بظاہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ حاسد کے حسد کے نتیجہ میں ہی تو وہ پھونکیں ماری جائیں گی۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہاں ایک اور مضمون بیان ہو رہا ہے۔مراد یہ ہے کہ دشمنوں پر دود ور آتے ہیں۔ایک نفرت اور حقارت کا وہ دور جب کہ وہ خدا تعالیٰ کے قافلوں کی راہ میں حائل ہونے کی اور ان کے تعلقات میں زہر گھولنے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن وہ ناکام کر دئیے جاتے ہیں۔جب وہ قافلہ ان کوششوں کے باوجود آگے بڑھ جاتا ہے اور ترقی کی نئی نئی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے تو اس وقت حاسدوں کے حسد کی نظریں پڑتی ہیں اور وہ کچھ نہیں کرسکتیں۔ایک بے اختیاری کا عالم ہے ، غیظ و غضب کا عالم ہے لیکن بس کوئی نہیں ہوتا۔لیکن اس حسد کے نتیجہ میں بھی بعض دفعہ نقصانات پہنچ جاتے ہیں۔کیا بار یک فلسفہ ہے اس حسد کا۔اس وقت اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے۔لیکن حسد کے نتیجہ میں انسان تاک میں لگا رہتا ہے۔بعد کے مواقع میں اس کا غصہ بغض میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ایسے کینہ میں تبدیل ہو جاتا ہے جو اس کی فطرت میں کس گھولنے لگ جاتا ہے بجائے اس کے کہ وہ آپ کے تعلقات میں کس گھولے۔یعنی اندرونی مضمون ہے جس طرح سانپ کو ڈسنے کا موقع نہیں ملتا اور وہ طیش میں بیٹھا ہو کہ میں نے ضرور ڈسنا ہے تو اہل علم جانتے ہیں کہ جتنی دیر اس کے زہر کی تھیلی کو انتظار میں لگتی ہے اتنا ہی زیادہ زہر اس میں بھرتا چلا جاتا اور خطر ناک ہوتا چلا جاتا ہے۔تم دعائیں کرو گے تو ہم تمہیں 1137