نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1014 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1014

سب پیغام پہنچائے گئے۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اے خدا! ان باتوں کا گواہ رہ۔اور پھر فرمایا کہ یہ تمام تبلیغ اس لئے مقرر کی گئی کہ شاید آئندہ سال میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں گا۔اور پھر دوسری مرتبہ تم مجھے اس جگہ نہیں پاؤ گے۔تب مدینہ میں جا کر دوسرے سال میں فوت ہو گئے اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَبَارِكَ وَسَلِّمُ - ( نور القرآن نمبر 1، روحانی خزائن جلد 9 صفحه 361 تا 367) یہ سورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب زمانہ وفات میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ زور دے کر اپنی نصرت اور تائید اور تکمیل مقاصد دین کی خبر دیتا ہے کہ اب تو اے نبی خدا کی تسبیح کر اور تجید کر اور خدا سے مغفرت چاہ۔وہ تو اب ہے۔اس موقع پر مغفرت کا ذکر کرنا یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب کام تبلیغ ختم ہو گیا۔خدا سے دعا کر کہ اگر خدمت تبلیغ کے دقائق میں کوئی فروگذاشت ہوئی ہو تو خدا اس کو بخش دے۔موسیٰ بھی تو ریت میں اپنے قصوروں کو یاد کر کے روتا ہے اور جس کو عیسائیوں نے خدا بنا رکھا ہے کسی نے اس کو کہا کہ اے نیک استاد۔تو اس نے جواب دیا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔نیک کوئی نہیں مگر خدا۔یہی تمام اولیاء کا شعار رہا ہے۔سب نے استغفار کو اپنا شعار قرار دیا ہے۔بجز شیطان کے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحه 271) اس میں اس امر کی طرف صریح اشارہ ہے کہ آپ اس وقت دنیا میں آئے جب دین اللہ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اور عالمگیر تاریکی چھائی ہوئی تھی۔اور گئے اُس وقت کہ جبکہ اس نظارہ کو دیکھ لیا کہ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا جب تک اس کو پورا نہ کر لیا نہ تھکے نہ ماندہ ہوئے۔مخالفوں کی مخالفتیں، اعداء کی سازشیں اور منصوبے، قتل کرنے کے مشورے، قوم کی تکلیفیں آپ کے حوصلہ اور ہمت کے سامنے سب پیچ اور بیکار تھیں اور کوئی ایسی چیز نہ تھی جو اپنے کام سے ایک لمحہ کے لئے بھی روک سکتی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت تک زندہ رکھا جب تک کہ آپ نے وہ کام نہ کر لیا جس کے واسطے آئے۔یہ بھی ایک سر" ہے کہ خدا کی طرف سے آنے 1014